واشنگٹن ۔ بائیڈن حکومت تو یہ کہنا پسند کرتی ہے کہ یوکرین پر حملے کی پاداش میں روس عالمی سطح پر تنہا رہ گیا ہے۔ لیکن اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماسکو کے اعلی عہدیداروں کو دیکھا جائے تو وہ بہ مشکل ہی کریملن تک محدود نظر آتے ہیں اور اب تو خود امریکہ بھی بات کرنا چاہتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن ترک صدر رجب طیب اردغان سمیت جن کا ملک ناٹو کا رکن بھی ہے عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اور ان کے اعلی سفارتکار وزیر خارجہ سرگئی لاوروف دنیا بھر میں گھومتے پھر رہے ہیں وہ مسکراتے، لوگوں سے ہاتھ ملاتے اور غیر ملکی لیڈروں کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لئے پوز دیتے نظر آتے ہیں۔ اور ان میں بعض ایسے لیڈر بھی ہیں جو امریکہ کے دوست ہیں۔ چہارشنبہ کے روز تو خود امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے بھی کہا کہ وہ امریکی نظربندوں کی رہائی اور یوکرین سے متعلق مسائل پر وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ تبادلہ خیال کے لئے مہینوں کی امریکہ کی اعلی سطحی سفارتی دوری کو ختم کرناچاہتے ہیں۔ فی الحال فون کال کا کوئی وقت طے نہیں ہوا ہے لیکن آنے والے دنوں میں اس کی توقع کی جارہی ہے۔ امریکی عہدیدار کہتے ہیں کہ روس کچھ ایسے اتحادوں کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن کو وہ فراموش کیے ہوئے تھا۔ ان میں کچھ امریکہ مخالف ملک ہیں جیسے کہ ایران۔ لیکن مصر اور یوگنڈا جیسے ملک جو بظاہر امریکہ کے شراکت دار ہیں وہ بھی گرمجوشی سے اعلی روسی حکام کا استقبال کر رہے ہیں۔