روپئے ۔ڈالر کی کہانی، سات دہوں میں روپئے کی قدر میں مسلسل گراوٹ

   

راجیو گاندھی حکومت میں بھی روپیہ مستحکم، مودی دور حکومت میں فی ڈالر قیمت میں 95 روپئے تک کا اضافہ
حیدرآباد ۔24 ۔ جون (سیاست نیوز) کسی بھی ملک کی معیشت کے استحکام کا اندازہ ڈالر کے مقابلہ مقامی کرنسی کی طاقت پر ہوتا ہے۔ کرنسی جس قدر مضبوط ہوگی ، اس ملک کی معیشت اسی قدر مستحکم قرار پاتی ہے۔ آزادی کے بعد سے ہندوستان میں روپئے کی قدر میں مسلسل کمی کا رجحان ہندوستانی معیشت کے کمزور موقف کو ظاہر کرتا ہے۔ مرکزی حکومت دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہندوستان کا شمار کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہے تو دوسری طرف گزشتہ سات دہوں میں ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ 1995 میں جس وقت پنڈت جواہر لال نہرو ملک کے وزیراعظم تھے ، ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قیمت 4.76 روپئے درج کی گئی تھی جو آج بڑھ کر تقریباً 95 روپئے ہوچکی ہے۔ بڑھتی مہنگائی ، تجارتی خسارہ اور عالمی معیشت میں حصہ داری میں کمی کے نتیجہ میں روپئے کی قدر میں گراوٹ کا رجحان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپئے کی قدر میں گراوٹ کے باوجود ہندوستانی معیشت زوال پذیر نہیں ہے بلکہ استحکام کی طرف رواں دواں ہے۔ 1955 سے 2026 تک ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قیمت کے رجحان کا جائزہ لیا جائے تو لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی کے دور تک بھی روپئے کی قیمت 8.38 روپئے فی ڈالر درج کی گئی۔ 1985 میں راجیو گاندھی دور حکومت میں ایک ڈالر کی قیمت 12.37 روپئے درج کی گئی تھی لیکن پی وی نرسمہا راؤ کے دور سے تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ 1995 میں 32.43 روپئے فی ڈالر کی قیمت تھی جو 2015 میں 62.97 روپئے ہوئی۔ 2014 میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے روپئے کی قدر میں گراوٹ کا رجحان جاری رہا اور جاریہ سال ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قیمت تقریباً 95 روپئے ہوچکی ہے۔1/k/m/b