کھلے عام شراب نوشی پر اعتراض قتل کا موجب بن رہا ہے ، عام شہری فکر مند
حیدرآباد :20جولائی ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں روڈی شیٹرس اور غنڈہ عناصر کو قابو کرنے میں پولیس ناکام ثابت ہورہی ہے ۔کھلے عام غنڈہ گردی اور شہریوں کو خوف زدہ کرنے والے یہ غنڈہ عناصر معمولی بات پر جھگڑا اور یہاں تک کہ قتل کرنے میں بھی پس و پیش نہیں کرتے ۔کالا پتھر کا واقعہ ابھی تازہ ہی تھا کہ نامپلی کے علاقہ حبیب نگر حدود میں روڈی عناصر کی زیادتیوں کا ایک اور واقعہ منظر عام پر آیا ۔ کھلے عام شراب نوشی پر اعتراض کرنے والے انٹرمیڈیٹ طالب علم کے قتل سے شہریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ حبیب نگر حدودکے سبحان پورہ میں ان دنوں روڈی شیٹر اور اسکی ٹولی نے مقامی عوام کا جینا مشکل کردیا ہے ۔ خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور قابل اعتراض انداز میں انہیں پریشان کیا جارہا ہے ۔ روڈی عناصر عوام بالخصوص خواتین پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ان روڈی عناصر کا نام احترام سے لیا جائے اور ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں ہونا چاہیئے ۔ ایک خاتون نے جب اس بات کی شکایت شوہر سے کی اور شوہر نے اعتراض کرتے ہوئے اس روڈی شیٹر کی مخالفت کی تو روڈی شیٹر نے شوہر کو مبینہ مارپیٹ کا نشانہ بنایا اور علاقہ میں خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ شہر میں پولیس صرف جرمانوں ، انہدامی کارروائی اور بندوبست کی حد تک محدودہوگئی ہے ۔ پولیس اسٹیشن کے نگرانکار اسٹیشن ہاؤز آفیسرس کو اپنے حدود کے مسائل اور حالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ صرف اختیارات کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے اور اختیارات سے لطف اندوز ہونے کی حد تک محدود ہونے کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ایسے اقدامات اور مسائل سے عدم دلچسپی کے سبب شہر کے حالات دن بہ دن ابتر ہوتے جارہے ہیں اور قابو سے باہر دکھائی دے رہے ہیں ۔ پولیس اپنے حدود کے مسائل کو جب حل نہیں کرسکتی تو اعلیٰ عہدیداروں کو چاہیئے کہ وہ ایسے عہدیداروں کو ہٹا دیں اور بہتر خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔ شہریوں نے کمشنر پولیس سے درخواست کی ہے کہ وہ شہر کے حالات کو بگڑنے سے بچالیں ، آنسو پونچنے بہت سارے لوگ آتے ہیں اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دلاسہ دے کر چلے جاتے ہیں لیکن آنسوؤں کا سبب بن رہے حالات کو روکنے والا کوئی نہیں ، کہیں نہ کہیں ان حالات کی وجوہات کا سبب خاموشی تو نہیں ، خاص طور پر عام شہری فکر مند ہیںکہ شہر کے حالات آخر کب بہتر ہوں گے ۔/iع