روہنگیا بحران پر فرانسیسی مصنف کی اولین تصنیف

   

نئی دہلی ۔ 3 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ینگوئن رانڈم پاورز انڈیا نے منگل کو اعلان کیا کہ روہنگیا کمیونٹی پر ہوئے مسلسل مظالم اور آزمائشوں کی آنکھوں دیکھی تفصیلات ایک روہنگیا شخص کے ذریعہ پہلی بار منظر عام پر آئی ہے ۔ یہ تصنیف جس کا نام First Thing Erased Our Names: A.R.Rohingya Speaks جس کی فرانسیسی مصنف و صحافی صوفی انسل ہیں، کی رسم اجرائی 9 ستمبر کو ہوگی ۔ اس انسانی بحران کی آنکھوں دیکھی تفصیلات کو روہنگیائی شخص حبیب الرحمن نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے جو خود کے اپنے ہی ملک میں بے وطن ہوگئے ۔ مغربی برما (میانمار) کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے حبیب الرحمن اس وقت بے وطن قرار دے ئے گئے جب 1979 ء میں برما کے ایک فوجی لیڈر نے روہنگیا کو 135 مسلمہ نسلی گروپس سے خارج کر کے ان کو غیر ملکی قرار دیا ۔ 1982 ء سے کئی ملین روہنگیا ان کے ساتھ نسلی تعصب اور ظلم و زیادتی کے باعث ترک وطن کرنے لگے۔ 2016-17 ء کے درمیان حکومت نے ان کی نسل تطہیر شروع کردی جس کے باعث 6 لاکھ روہنگیا عوام سرحد پار کر کے بنگلہ دیش میں پناہ گزیں کی حیثیت سے داخل ہوگئے۔