یانگون : میانمار کے حکام نے وہنگیا پناہ گزینوں سے ملاقاتیں کیں جس کے بارے میں بنگلہ دیشی حکام کا کہنا تھا کہ یہ طویل عرصے سے غیر یقینی صورت حال میں گرفتار اس بے وطن اقلیت کو ان کے وطن واپس بھیجنے کی کوششوں کا دوبارہ آغاز ہے۔بنگلہ دیش میں تقریباً 10 لاکھ روہنگیا پناہ گزین رہ رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر پڑوسی ملک میانمار میں 2017 کے فوجی کریک ڈاؤن سے اپنی جانیں بچانے کے لیے فرار ہو کر وہاں گئے تھے۔ اقوام متحدہ میانمار کے اس کریک ڈاؤن کو نسل کشی قرار دیتاہے اور اس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔دونوں ممالک نے سن 2017کے آخر میں ان کی واپسی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے لیکن اس میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے باعث مہاجرین کو مجبوراًکسمپرسی کی حالت میں امدادی کیمپوں میں پڑے رہنا پڑرہا ہے۔