ماسکو : روس نے افغان طالبان سے تعاون بڑھانے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے مقامی وعالمی دہشت گرد تنظیموں پر عائد پابندی عبوری طورپر اٹھانے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی پارلیمنٹ ڈوما میں پیش کئے گئے بل میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے والی مقامی وعالمی تنظیموں پر عائد پابندی عبوری طور پر اٹھائی جائے، پراسیکیوٹر تصدیق کرے کہ تنظیم نے دہشت گردی ختم کردی تو عدالت پابندی اٹھالے۔اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو روس کی جانب سے طالبان کو دہشت گرد گروپ کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔خیال رہیکہ روس نے افغان طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ روس نے 2003 میں افغان طالبان کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔دوسری جانب افغان نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملاعبدالغنی برادر کا کہنا کہ ہے روس کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار سرگئی شوئیگو نے طالبان کو روس کی کالعدم تنظیموں کی فہرست سے جلد نکالنیکی یقین دہانی کرائی ہے۔خبرایجنسی کے مطابق سرگئی شوئیگو نے کابل میں ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان وفد سے ملاقات کی۔ ملا عبدالغنی برادر کے دفتر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ شوئیگو نے افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعاون کو بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔