رکن اسمبلی اے گاندھی کو ای ڈی کی نوٹس ‘ کل حاضری کی ہدایت

   

842 کروڑ کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ معاملہ میں پوچھ تاچھ کیلئے طلبی

حیدرآباد25ستمبر(سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے رکن اسمبلی اے گاندھی کو 842 کروڑ کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ معاملہ میں تحقیقات کیلئے طلب کیا ہے۔ اے گاندھی رکن اسمبلی شیر لنگم پلی جو 2023 میں بی آ رایس ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد کانگریس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں کو جاری سمن کے مطابق انہیں 27 ستمبر کو ای ڈی میں پیش ہو کر پوچھ تاچھ میں تعاون کرنے کہا گیا ہے ۔ ساہتی انفرا نامی کمپنی جس کے فنڈس کی ای ڈی تحقیقات کر رہی ہے اس کمپنی سے 2کروڑ 1لاکھ روپئے رکن اسمبلی اے گاندھی کے کھاتہ میں منتقل کئے گئے تھے جس پر انہیں بھی تحقیقات میں شامل کیاگیا ۔ بتایا گیا کہ ساہتی انفرا نے اپنے پراجکٹس میں فلیٹس اور ولا تعمیر کرنے بھاری رقومات وصول کی تھیں لیکن حسب وعدہ فلیٹس اور ولا کی فراہمی میں ناکام رہی۔ ابتدائی تحقیقات میں اس معاملہ کو 248 کروڑ کی دھوکہ دہی کے طور پر دیکھا جارہا تھا لیکن تحقیقات میں معاملہ 842 کروڑ کا ہوچکا ہے اور کمپنی نے گاہکوں سے وصول رقومات کو بیرون ملک منتقل کردیا ۔ ڈائریکٹوریٹ نے کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر بی لکشمی نارائن کو 2024میں گرفتار کرلیا ۔ اس کے بعد سابق ڈائرکٹر ایس پورنا چندر اراؤ کو بھی سال گذشتہ گرفتار کیا ہے۔ رکن اسمبلی شیرلنگم پلی اے گاندھی کو ساہتی انفرا کے کھاتہ کے ذریعہ2 کروڑ 1لاکھ روپئے کے حصول کے معاملہ میں پوچھ تاچھ کیلئے 27 ستمبر کو پیش ہونے کہا گیا ہے جبکہ ای ڈی کے عہدیداروں نے 842 کروڑ کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے معاملہ میں ایکٹر جگپتی بابو جو کمپنی کی تشہیر کا حصہ تھے ان سے بھی پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ اے گاندھی کو ای ڈی کی نوٹس پر سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے کیونکہ اے گاندھی اب تک یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں کیونکہ 2023 میں بی آر ایس ٹکٹ پر حلقہ اسمبلی شیرلنگم پلی سے انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ بھی ان اراکین اسمبلی کی فہرست میں شامل ہیں جو کانگریس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں اور بی آر ایس سے دوری بنائے ہوئے ہیں۔ ای ڈی کی نوٹس اور پوچھ تاچھ کیلئے طلبی کی اطلاعات پر ہی بی آر ایس اور کانگریس دونوں اے گاندھی سے اپنا دامن جھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بی آ رایس ان کی کانگریس میں شمولیت کی بناء پر کانگریس رکن اسمبلی کو ای ڈی کی نوٹس کے طور پر پیش کر رہی ہے جبکہ کانگریس حلقوں سے اے گاندھی کے دفاع پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے ۔ 3