قرض اسکیم کیلئے 2000 کروڑ کی ضرورت، خواتین کیلئے سیونگ مشین کا اعلان مضحکہ خیز
حیدرآباد۔6۔ فروری (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیر فینانس ہریش راؤ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ 2023-24 ء نے سماج کے تمام طبقات کو مایوس کردیا ہے۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر حکومت کے اسمبلی انتخابات سے قبل آخری بجٹ سے عوام کو کافی امیدیں تھیں لیکن چیف منسٹر نے تمام طبقات کو مایوس کردیا اور تعلیم ، صحت اور بھلائی کے شعبہ جات کے لئے مناسب فنڈس مختص نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت جیسے شعبہ جات کیلئے صرف 5 تا 6 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طبقات کے بجٹ میں اضافہ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ایس سی طبقات کیلئے مجموعی بجٹ کا صرف 7.23 فیصد جبکہ ایس ٹی طبقات کے لئے صرف 1.3 فیصد بجٹ الاٹ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقہ کیلئے 2.14 فیصد اور اقلیتی طبقات کیلئے مجموعی بجٹ کا صرف 0.75 فیصد الاٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بھلائی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے بجٹ رقومات ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویلفیر اسکیمات کیلئے بجٹ مختص کرنے کا فیصلہ آبادی کے اعتبار سے کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے جون 2014 ء سے جنوری 2023 ء تک اقلیتی بہبود کیلئے جملہ 8581 کروڑ خرچ کرنے سے متعلق ہریش راؤ کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ہریش راؤ کو اپنے دعوے کی تائید میں تفصیلات جاری کرنی چاہئے ۔ بی آر ایس حکومت نے بجٹ میں مختص کردہ 70 فیصد رقومات خرچ نہیں کی گئیے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لئے 2200 کروڑ کی منظوری ناکافی ہے کیونکہ مسلمان ، عیسائی اور دیگر اقلیتی طبقات کو 2014 ء سے مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا قلیتوں کو قرض کی اجرائی کیلئے 270 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ گزشتہ سال 239 کروڑ کا نشانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ قرض اجرائی کے سلسلہ میں کم از کم 2000 کروڑ مختص کئے جانے چاہئے تھے۔ 2014 ء سے ایک بھی بیروزگار مسلم نوجوان کو قرض جاری نہیں کیا گیا ۔ محمد علی شبیر نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ مسلم خواتین میں 20000 سیونگ مشینوں کی تقسیم کے اعلان پر تنقید کی اور کہا کہ مسلم خواتین کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے مالی امداد کے بجائے کے سی آر حکومت انہیں صرف کپڑوں کی سلوائی تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ کانگریس پارٹی ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا کے دوران کے سی آر حکومت کی مخالف اقلیت پالیسی کو بے نقاب کرے گی ۔ ر