تمام مراحل کی کونسلنگ مکمل ، فزیکل کونسلنگ کی منسوخی اصل وجہ
حیدرآباد /24 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کالوجی نارائن ہیلت یونیورسٹی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ریاست میں تقریباً 100 ایم بی بی ایس کی نشستیں مخلوعہ رہ گئی ہیں۔ ریاست کے خانگی میڈیکل کالجس میں ایم بی بی ایس کی جملہ 4825 نشستیں ہیں جن میں 15 فیصد یعنی 723 نشستیں این آر آئی کوٹہ میں دستیاب ہیں۔ ہیلت یونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ ماپ اپ راؤنڈ کے انعقاد کے بعد بھی ماباقی 128 کو اسٹرے ویکنسی طریقہ کار سے ان مخلوعہ نشستوں پر داخلہ کرانے کے انتظامات کئے گئے تھے باوجود اس کے زیادہ مثبت ردعمل حاصل نہیں ہوا ہے۔ دوسری طرف بی زمرہ میں بھی چند نشستیں مخلوعہ رہ گئی ہیں۔ مجموعی طور پر خانگی میڈیکل کالجس میں مینجمنٹ کوٹہ کی دو نشستیں مخلوعہ رہ گئی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ تمام کالجس کی جانب سے نیشنل میڈیکل کمیشن کو مطلع کرنے کے بعد بچ جانے والی نشستوں کی تعداد جلد ہی واضح ہوجائے گی۔ خانگی میڈیکل کالجس میں نشستوں کو بلاک کرنے کو روکنے اقدام کے طور پر نیشنل میڈیکل کمیشن نے تمام نشستوں کو آن لائن بھرتی کرنے احکامات جاری کئے تھے اور کسی بھی حالت میں فزیکل کونسلنگ نہ کرنے کی ہدایت دی تھی کہا جاتا ہے کہ جس کی وجہ سے یہ نشستیں مخلوعہ رہ گئی ہیں۔ عام طور پر ہر سال ایم بی بی ایس کی چند نشستیں مخلوعہ رہ جاتی ہیں۔ طلبہ این آر آئی نشستوں پر زیادہ دلچسپی نہیں دکھارہے ہیں۔ تعلیمی سال 2023-24 میں سرکاری میڈیکل کالجس میں 3790 اور خانگی میڈیکل کالجس میں 4825 ایم بی بی ایس کی نشستیں ہیں ان میں سے 15 فیصد یعنی 723 نشستیں این آر آئی کوٹہ میں دستیاب ہیں۔ 50 فیصد نشستیں کنوینر کوٹہ کے تحت پُر کی گئی ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالجس میں 15 فیصد نشستیں آل انڈیا کوٹہ کے تحت بھرتی کی جاتی ہیں۔ن