ریاست میں اے ٹی ایم کی تعداد گھٹائی جارہی ہے

   

بنکوں کے اخراجات کو کم کرنے کی حکمت عملی تیار
ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ درج کیا جا رہا ہے
حیدرآباد /27 ڈسمبر( سیاست نیوز ) ریاست کے بنکوں نے اپنے انتظامی اخراجات کو کم کرنے کیلئے اپنے اے ٹی ایم کی تعداد کو مزید گھٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جاریہ سال 5 فیصد اے ٹی ایم کوکم کیا گیا ۔ آئندہ سال مزید 10 فیصد اے ٹی ایم ATM کو گھٹانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ریاست میں 50 مختلف بنکوں کے فی الحال 9205 اے ٹی ایم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ گذشتہ سال مارچ تک 9660 اے ٹی ایم خدمات انجام دے رہے تھے ۔ جاریہ سال ڈسمبر تک455 اے ٹی ایم کی تعداد کو گھٹا دیا گیا ہے ۔ بنکوں کے اعداد و شمار سے اس کا پتہ چلتا ہے۔ اس سلسلے میں بنکوں کا کہنا ہے کہ ایک اے ٹی ایم کا ماہانہ اوسطاً 2.5 لاکھ روپئے خرچ ہوتا ہے ۔ ہر 8 گھنٹے کیلئے ایک سیکوریٹی گارڈکے حساب سے تین سیکوریٹی گارڈس کی تنخواہیں۔ شاپ / شٹر کا کرایہ برقی بلز کے علاوہ تکنیکی نگرانی کے اخراجات ہوتے ہیں۔ فی الحال ڈیجیٹل ادائیگیوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔جس کی وجہ سے اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کی سرگرمیاں کم ہوگئی ہیں۔ بنکوں کی جانب سے اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ جن اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے کا عمل کم ہوگیا ہے ۔ وہاں کے اے ٹی ایمس کو بنکوں کی جانب سے برخواست کردیا جارہا ہے۔ مستقبل میںبنکوں کی برانچس کے حدود میں رہنے والے اے ٹی ایم کو ہی برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر بنکس کام کر رہے ہیں۔ آئندہ دو سال میں اے ٹی ایمس کی تعداد گھٹ کر 6 محض ہزار ہوجانے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ بینکس ترجیحات کے لحاظ سے ایک طرف اے ٹی ایم کی تعداد کوگھٹا رہے ہیںتو دوسری طرف پوائنٹ آفس سیل POS مشینوں کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بنکوں کو ان کے ذریعہ اضافی آمدنی ہوتی ہے ۔ گذشتہ سال مارچ کے دوران ریاست بھر میں پی او ایس مشینوں کی تعداد 2,09,116 لاکھ تھی تاہم اب اس کی تعداد بڑھ کر 2,74,602 تک پہونچ گئی ہے ۔ بنکوں کی جانب سے مستقبل میں ان کی تعداد میںمزید اضافہ کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ 2