کسانوں کو روٹیشن سسٹم اختیار کرنے کا مشورہ ۔ چیف منسٹر کے سی آر کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے آج تیقن دیا کہ مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے دوسری ریاستوں پر اثرات سے قطع نظر تلنگانہ حکومت زرعی مارکٹنگ نظام کا تحفظ کرنے اور اس کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات کرے گی ۔ زرعی شعبہ میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چیف منسٹر نے واضح کیا کہ مارکٹنگ محکمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مناسب طریقہ اختیار کرے تاکہ کسان مارکٹ میں اپنی فصلیں فروخت کرسکیں۔ انہوں نے محکمہ زراعت کو ہدایت دی کہ وہ فصلوں کے روٹیشن سسٹم کو فروغ دینے جدوجہد کریں۔ ایسے زرعی میکانزم کی حوصلہ افزائی کریں جس سے ریاست میںعصری فارمنگ طریقے رائج ہوسکیں۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں سے کہا کہ ریاست بھر میں تمام زرعی اراضیات پر کی جانے والی کاشت کے سلسلہ میں ایک مکمل رپورٹ تیار کرکے پیش کریں۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ ریتو ویدیکا کو فوری استعمال میں لائیں اور کسانوں کے اجلاس منعقد کریں۔ پرگتی بھون میں آٹھ گھنٹوں تک چلے ایک جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر نے زرعی اور مارکٹنگ محکمہ جات کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ہی محکمہ جات کی اہمیت اور ذمہ داری ریاست میں زیر کاشت اراضیات میں اضافہ کی وجہ سے بڑھ گئی ہے ۔ انہوں نے ایک معیاری اور اہم تبدیلی دونوں ہی محکمہ جات میں لانے کی وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ اگریکلچر ایکسٹنشن آفیسرس اور ریتو بندھو سمیتیوں کے دفاتر ریتو ویدیکا سے ہی کام کرنے چاہئیں اور یہاں ضروری انتظامات اور فرنیچر بھی فراہم کئے جانے چاہئیں۔ چیف منسٹر نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایک ہی فصل کی کاشت کے طریقہ کار کو تبدیل کریں اور روٹیشن سسٹم اختیار کریں تاکہ زیادہ نفع حاصل کرسکیں۔ انہوں نے زرعی مزدوروں کی قلت کے پیش نظر کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ فارم میکانزم کا طریقہ اختیار کریں۔ اس کے علاوہ عصری کاشت کاری کے طریقے اختیار کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں میں فیلڈ سطح پر ان امورکے تعلق سے شعور بیدار کیا جانا چاہئے ۔ ریاست میں جو ریتو ویدیکا قائم کئے گئے ہیں ان کا موثر استعمال بھی شروع ہونا چاہئے ۔