گاندھی بھون میں پارٹی کے سینئر قائدین کا اجلاس، چار مسائل پر احتجاج کو قطعیت، ریونت ریڈی کا الزام
حیدرآباد ۔ 6 نومبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی نے ملازمتوں کی فراہمی کے بجائے وائن شاپس کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں کانگریس پارٹی کے سینئر قائدین کا اجلاس منعقد کیا گیا جس پر چار مسائل پر احتجاجی مہم کو قطعیت دی گئی۔ اجلاس میں گیتاریڈی، مہیش کمار گوڑ، محمد علی شبیر، پونالہ لکشمیا، دامودھر راج نرسمہا، مہیشورریڈی، جی چناریڈی، ڈی شراون کے علاوہ دوسروں نے شرکت کی۔ بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے چیف منسٹر اور تلنگانہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ چار عوامی مسائل پر احتجاجی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کسانوں کے مسائل، پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف، بیروزگاری کے خلاف اور دلت بندھو اسکیم پر عمل آوری کیلئے حکومت پر دباؤ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کل ضلع کاماریڈی میں ایک کسان دھان پر ہی حرکت قلب بند ہوجانے سے فوت ہوگیا لیکن قدرتی موت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے کسان الجھن اور پریشانی کا شکار ہیں۔ لمبے عرصہ سے ملازمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا وعدہ کیا جارہا ہے مگر حکومت اس معاملے میں غفلت، لاپرواہی اور تساہل سے کام لے رہی ہے جبکہ وائن شاپس کیلئے نوٹیفکیشن کی اجرائی میں چستی اور پھرتی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ بیروزگار نوجوانوں اور کسانوں کی خودکشی کیلئے چیف منسٹر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان اموات کو سرکاری قتل قرار دیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ نیشنل کرائم ریٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں 7409 کسانوں کی اموات ہوئی ہے جبکہ غیر سرکاری اعدادوشمار کے لحاظ سے 40 ہزار کسانوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ اس معاملے میں چیف منسٹر کو پھانسی کی بھی سزاء دی جائے تو وہ بھی کم ہے۔ 8 نومبر کو مہیلا کانگریس کی جانب سے سیول سپلائز کے دفتر پر احتجاجی دھرنا منظم کیا جائے گا۔ ن