ریاست میں یکم تا 11 جون ’ بڈی باٹا ‘ پروگرام

   

سرکاری اسکولس میں داخلوں کی کمی ، حکومت نے سخت نوٹ لیا
حیدرآباد 27 مئی : ( سیاست نیوز ) : حکومت نے سرکاری اسکولس میں طلبہ کے داخلوں کی حوصلہ افزائی کیلئے یکم تا 11 جون ’ بڈی باٹا ‘ منعقد کرنے کا فیصلہ کرکے اسکولس ہیڈ ماسٹرس اور ٹیچرس کو احکام جاری کئے ہیں ۔ جاریہ سال حکومت نے اسکولس میں بنیادی سہولتوںکیلئے 1907 کروڑ روپئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرکاری اسکولس میں داخلوں کا عمل گذشتہ دو سال سے گھٹ رہا ہے ۔ پہلی تا پانچویں جماعت داخلے اطمینان بحش ہیں ۔ چھٹی سے طلبہ خانگی اسکولس کی طرف راغب ہورہے ہیں جس کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ تعلیم نے اس بار خصوصی اقدامات کرکے سرکاری اسکولس میں طلبہ کے داخلوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سال سرکاری اسکولس پر 1907 کروڑ خرچ کرنے کا حکومت کا منصوبہ ہے ۔ فنڈز سے طلبہ کیلئے مفت کتابیں ، یونیفارمس ، عمارتوں کی مرمت ، اسمارٹ کلاس رومس ، انفارمیشن ٹکنالوجی ، عملہ کی تنخواہوں پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ریاست میں 30,023 سرکاری اسکولس ہیں جن میں گذشتہ سال 1,213 اسکولس کوئی نئے داخلے نہیں ہوئے ۔ 13,364 اسکولس میں 50 سے کم داخلے ہوئے ریاست میں 21 ہزار ٹیچرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ 5,821 اسکولس میں ایک ہی ٹیچر ہے ۔ 80 فیصد اسکولس میں سبجکٹ یا لینگویج پنڈت کی قلت ہے ۔ معذورین کیلئے بیت الخلاء نہ رہنے والے اسکولس کی تعداد 15.45 فیصد ہے ۔ لڑکیوں کو بیت الخلاء نہ رہنے والے 9.44 فیصد اسکولس ہیں ۔ ہیڈ ماسٹرس اور اساتذہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ یکم تا 11 جون داخلوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے ’ بڈی باٹا ‘ پروگرامس کو کامیابی سے چلائیں ۔2