گذشتہ سال کے مقابلہ 4 گنا زائد سرمایہ کاری، وزیر آئی ٹی ڈی سریدھر بابو کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/28 جنوری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے دعویٰ کیا کہ ڈاؤس میں گذشتہ سال کے مقابلہ تلنگانہ میں چار گنا سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت نے ریاست کی ترقی اور عوامی بھلائی کے پیش نظر ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سکریٹریٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ گذشتہ سال سرمایہ کاری کے سلسلہ میں جو معاہدے کئے گئے اُن میں 17 پراجکٹس عمل آوری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت مثبت انداز میں پیشرفت کررہی ہے لیکن اپوزیشن کا منفی رویہ افسوسناک ہے۔ سابق میں کانگریس پارٹی نے اپوزیشن کی حیثیت سے کبھی بھی سرمایہ کاری پر تنقید نہیں کی تھی اور کم سرمایہ کاری کو سیاسی رنگ نہیں دیا تھا لیکن افسوس کہ موجودہ اپوزیشن نوجوانوں کے تابناک مستقبل اور ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بننے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کا ہر کسی نے اعتراف کیا ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ سنگا پور میں اسکل یونیورسٹی کیلئے معاہدات طئے پائے ہیں۔ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ پر عمل آوری کیلئے سنگاپور میں جھیلوں کی ترقی کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں اضافہ کے پس پردہ حکومت کا ایک ہی نظریہ ہے کہ عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کی بھلائی ہو جو گذشتہ دس برسوں سے محروم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکل ڈیولپمنٹ کے سلسلہ میں سنگاپور کے اداروں نے 450 کروڑ کی سرمایہ کاری سے اسکل سنٹرس کے قیام سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے ذریعہ عوام کو صاف ستھرا ماحول اور زرعی اغراض کیلئے پانی کی سربراہی کا منصوبہ رکھتی ہے اور حیدرآباد میں آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور کے ماہرین نے پراجکٹ کی تکمیل میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ اپوزیشن کو تنقیدوں کے بجائے تجاویز پیش کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع سرمایہ کاری میں اضافہ سے حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی صنعت کاروں نے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور آنے والے دنوں میں حکومت ان سے معاہدے کرے گی۔1
بی آر ایس کی جانب سے سرمایہ کاری پر شکوک کے اظہار کو مضحکہ خیز قراردیتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ جلد ہی حقائق سے واقف ہوجائیں گے۔1