ریاست کے ذخائر آب میں گوداوری کے فاضل پانی پہونچانے پر زور

   

سابق وزیر و بی آر ایس رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ کا وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی کو مکتوب
حیدرآباد۔25۔ستمبر۔(سیاست نیوز) سابق ریاستی وزیر و رکن اسمبلی مسٹر ٹی ہریش راؤ نے ریاستی وزیر آبپاشی کیپٹن اتم کمار ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست کے ذخائر آب میں گوداری کا فاضل پانی پہنچانے کے اقدامات کی خواہش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت تلنگانہ ذخائر آب کو خشک ہونے کے لئے چھوڑ دیتی ہے تو ایسی صورت میں یہ حکومت کی نااہلی کے سواء کچھ نہیں ہے کیونکہ گوداوری سے سیلابی پانی ضائع ہورہا ہے اس کے باوجود دیگر ذخائر آب کو پانی پہنچانے کے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔سابق ریاستی وزیر نے کہا کہ گوداوری میںشدید سیلاب کے باوجود ریاست کے کئی ذخائر آب خشک ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں جس کے نتیجہ میں کسانوں کی فصلیں تباہ ہونے کے علاوہ ریاست کے مکینوں کو پینے کے پانی کے مسائل پیدا ہونے کے خدشات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔انہوں نے اپنے مکتوب میں ریاستی وزیر آبپاشی کیپٹن اتم کمار ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ ریاست کے کسانوں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ان کو حل کرنے کے فوری اقدامات کریں اور فصلوں کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے ذخائر آب میں پانی پہنچانے کو منظوری دیں۔انہوں نے ایلم پلی میں سیلابی پانی کی موجودگی کے باوجود موٹروں کو بند رکھے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایلم پلی پراجکٹ میں سیلابی پانی دستیاب ہے اس کے باوجود کسانوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ہریش راؤ نے ملنا ساگر میں محض 13 ٹی ایم سی پانی باقی رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ 50ٹی ایم سی گنجائش کے حامل ملنا ساگر میں ریکارڈ کی جانے والی پانی کی کمی تشویشناک ہے ۔انہوں نے ریاستی وزیر آبپاشی کو روانہ کردہ اپنے مکتوب میں کہا کہ سدی پیٹ میں پام آئیل فیکٹری کا مستقبل خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے کیونکہ رنگانائیک ساگر کی سطح آب میں ریکارڈ کی جانے والی پانی کی کمی کے نتیجہ میں پام آئیل کے تخم کی کاشت کررہے کسانوں کی فصل تباہ ہوجائے گی۔سابق وزیر آبپاشی و فینانس نے بتایا کہ اگر سیاسی تنازعہ اور بغض کی بنیاد پر اگر ریاست کے ذخائر آب کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں کسانوں کے ساتھ عوام کو بھی پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے حکومت کو دیگر فوری ریاست کے ذخائر آب تک پانی پہنچانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔3/m/b