ریتو ڈسکام کے قیام کا منصوبہ کسانوں کے خلاف خطرناک سازش

   

حکومت کی تجویز کو مسترد کردینے ای آر سی سے ٹی آر ایس سربراہ کویتا کا مطالبہ
نظام آباد29 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بی آر ایس کی صدر کے کویتا نے ’’رعیتو ڈسکام‘‘ کے مجوزہ منصوبہ پر ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کے مفادات کے خلاف خطرناک سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے ای آر سی(تیلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن) سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کرے۔رعیتو ڈسکام سے متعلق منعقدہ پبلک ہیئرنگ میں خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ یہ صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ تلنگانہ کے مستقبل اور کسانوں کی زندگیوں سے جڑا اہم مسئلہ ہے، اس لیے حکومت کو صرف حیدرآباد تک محدود رہنے کے بجائے ریاست کے تمام 33 اضلاع میں عوامی سماعتیں منعقد کرنی چاہئیں تاکہ کسانوں کی رائے حاصل کی جاسکے۔کویتا نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت ’’رائتھو ڈسکام‘‘ کے نام پر کسانوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ فیصلہ واقعی کسانوں کے مفاد میں ہے تو حکومت نے گزشتہ چھ ماہ سے اسے خفیہ کیوں رکھا؟ انہوں نے کہا کہ اگر ای آر سی کے ذریعہ یہ معاملہ منظر عام پر نہ آتا تو عوام کو اس کی کوئی اطلاع نہ ہوتی۔ کویتا کے مطابق ڈسکامس پر 69 ہزار کروڑ روپے کا بوجھ ہے، جس میں سے تقریباً 54 ہزار کروڑ روپے حکومت کے ذمہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں نئی کمپنی قائم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں اور یہ کسانوں کے لیے مزید پریشانیوں کا سبب بنے گا۔کویتا نے کہا کہ حکومت 42 فیصد برقی بوجھ نئے رعیتوڈسکام کو منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، مگر 45 ہزار ملازمین میں سے صرف دو ہزار کو منتقل کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جن میں اکثریت دفتری عملہ پر مشتمل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرانسفارمر خراب ہوں گے تو مرمت کے لیے عملہ دستیاب نہیں ہوگا اور کسانوں کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑے گا۔ بی آر ایس قائد نے الزام لگایا کہ حکومت دراصل برقی شعبہ کو خانگیانے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے موٹرس پر میٹر نہ لگانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، مگر مرکزی حکومت کی تمام شرائط کو قبول کیا جا رہا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں میٹر نصب کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی تھرمل پاور خریدنے اور نئی ڈسکام قائم کرنے کے پیچھے نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔کویتا نے حکومت کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریتو ڈسکام منصوبہ نافذ کیا گیا تو ٹی آر ایس ریاست بھر میں کسانوں کے درمیان جاکر حکومت کی ’’دھوکہ دہی پر مبنی پالیسیوں‘‘ کو بے نقاب کرے گی۔ انہوں نے حکومت کو 1999 کے کسان فائرنگ واقعہ کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایسے حالات پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو عوامی غصہ کو بھڑکا دیں۔