ریسرچ اسکالرس کو ڈیجیٹل وسائل سے استفادہ کرنے کی ضرورت

   

تلنگانہ یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیر ا ہتمام ورکشاپ، پروفیسر ٹی یادگیری، ڈاکٹر محمد عبدالقوی اور دیگر دانشوروں کا خطاب

نظام آباد۔ 10 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ یونیورسٹی پروفیسر ٹی یادگیری راؤ نے عہد حاضر میں یونیورسٹی سطح پر تحقیقی کام کو بخوبی انجام دینے کے لیے جدید تقاضوں سے واقفیت کو نہایت ضروری قرار دیا۔ وہ شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام یونیورسٹی کالج آف آرٹس اینڈ سائنسں کے سیمینار ہال میں منعقدہ ایک روزہ قومی ورکشاپ بہ عنوان‘‘اردو میں تحقیق کا فن اور عہدِ حاضر کے تقاضے’’سے بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھے۔ وائس چانسلر تلنگانہ یونیورسٹی نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ورکشاپ طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا اور ان کی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس دوران انہوں نے شعبہ اردو کی جانب سے سیمینار اور ورکشاپ کی بازیافت اور احیاء پر اور اس بامقصد ورکشاپ کے انعقاد پر صدر شعبہ اردو و کنوینر ڈاکٹر محمد عبدالقوی، معاون کنوینر ڈاکٹر گل رعنا اور پروفیسر محمد موسیٰ قریشی کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ یہ ورکشاپ طلبہ و محققین کی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مؤثر ثابت ہوگا۔ قبل ازیں ورکشاپ کے کنوینر ڈاکٹر محمد عبدالقوی صدر شعبہ اردو نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کسی بھی زبان و ادب کی بنیاد اور اس کی ترقی کا ضامن ہوتی ہے۔ آج کا دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تیز رفتار معلومات اور عالمی روابط کا دور ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں محقق کے لیے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ نہ صرف روایتی علمی اصولوں سے واقف ہو بلکہ جدید تحقیقی ذرائع، ڈیجیٹل وسائل اور سائنسی طریقہ کار سے بھی آگاہی رکھتا ہو۔ آج تحقیق کے میدان میں آن لائن لائبریریاں، ڈیجیٹل آرکائیوز، تحقیقی جرنلز اور مختلف علمی پلیٹ فارمز نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیق میں دیانت داری، حوالہ جات کی درستگی اور سرقہ سے مکمل اجتناب جیسے اصولوں کی اہمیت بھی دوچند ہو گئی ہے۔ اسی پس منظر میں اس ورکشاپ کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے تاکہ طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کو تحقیق کے بنیادی اصولوں، جدید تقاضوں اور عملی پہلوؤں سے روشناس کرایا جا سکے۔ مہمانِ اعزازی پروفیسر موسیٰ اقبال ڈین فیکلٹی آف آرٹس تلنگانہ یونیورسٹی نے اپنے خطاب میں طلبہ پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے بنیادی اصولوں کو گہرائی سے سمجھیں اور جدید وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں تاکہ وہ ایک کامیاب محقق بن سکیں۔ ریسورس پرسن ڈاکٹر معید جاوید سابق صدر شعبہ? اردو، عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنے فکر انگیز خطاب میں کہا کہ تحقیق ایک مسلسل عمل ہے اور کوئی بھی تحقیق حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ تحقیق میں سائنسی اور تنقیدی اندازِ فکر کو اپنائیں۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی سابق پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج مورتاڑ نے کہا کہ تحقیق کے ذریعے علوم و فنون کے نئے انکشافات ہونے چاہیے۔ انہوں نے تحقیق میں ترقی کو مثالوں سے واضح کیا اور کلاسیکی و جدید ادب دونوں پر تحقیقی کام کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی طرح عبدالرحمن داؤدی نے جدید ذرائع جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، آن لائن وسائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے مواد کے حصول کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ورکشاپ کے اختتامی تقریب کے موقع پر ڈاکٹر لکشمی چکرورتی اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ تلگو نے ورکشاپ کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کے استحکام کے لیے مفید قرار دیا۔ مہمان اعزازی پرنسپل کالج آف آرٹس پروفیسر جی رام بابو نے شرکت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اس ورکشاپ کی نظامت ڈاکٹر گل رعنا معاون کنوینر نے انجام دی اور پورے پروگرام کو نہایت خوش اسلوبی سے چلایا۔ اور آخر میں تمام شرکاء کا اس ورکشاپ میں شرکت پر اظہار تشکر کیا۔