ریونت ریڈی حکومت کے آج 1000 دن مکمل ، ترقیاتی و فلاحی اقدامات کا تسلسل

   

حیدرآباد۔31۔اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے 1000 دن کل یکم ستمبر کو مکمل ہوجائیں گے۔ حکومت کے 1000 دن کی تکمیل پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حکومت کے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کا تفصیلی خاکہ عوام کیلئے جاری کیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی دور اندیش قیادت میں تلنگانہ نے بہتر نظم و نسق کے ساتھ عوام کی امنگوں کی تکمیل کرتے ہوئے سماجی انصاف کو یقینی بنایا ہے۔ کسانوں ، خواتین اور نوجوانوں میں اعتماد بحال کیا گیا اور ریاست کی ترقی کے لئے قومی اور بین الاقوامی اداروں سے سرمایہ کاری کے حصول میں کامیابی ملی ہے۔ معاشی ترقی کے شعبہ میں ریاست کی پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 2025-26 میں ریاست کی فی کس آمدنی 418931 روپئے ہوچکی ہے جو قومی فی کس آمدنی سے 91 فیصد زیادہ ہے۔ معیشت کے استحکام کیلئے حکومت نے سرمایہ کاری کو راغب کیا، روزگار کے مواقع پیدا کئے اور ٹکنالوجی کے شعبہ کو فروغ دیا گیا۔ ریاست کی معاشی صورتحال کو مضبوط بنانے کیلئے اہم اقدامات کے ساتھ ساتھ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی گئی۔ ریاست کی مجموعی ترقی میں کسان ، خواتین ، نوجوان ، مزدور ، ملازمین ، عہدیداروں ، صنعت کاروں اور عوام کی سرگرم شراکت داری رہی ہے۔ زرعی شعبہ کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے دعویٰ کیا کہ کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کئے گئے جس سے 25 لاکھ سے زائد کسانوں کو راحت ملی ہے ۔ رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت کسانوں کو 36 ہزار کروڑ کی امداد فراہم کی گئی۔ باریک دھان کی پیداوار پر فی کنٹل 500 روپئے بونس فراہم کیا جارہا ہے ۔ زرعی شعبہ کے لئے مفت برقی کی سربراہی پر عمل آوری جاری ہے۔ دھان کی کاشت اور پیداوار میں تلنگانہ نے پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا اور ملک میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ گزشتہ ربیع سیزن میں 81.12 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی ریکارڈ خریداری کی گئی۔ مہا لکشمی اسکیم کے تحت آر ٹی سی میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت کے تحت 335 کروڑ سے زائد خواتین نے سفر کیا جس کے نتیجہ میں 11 ہزار کروڑ کی بچت ہوئی ہے۔ گروہا جیوتی اسکیم کے تحت 53 لاکھ خاندانوں کو ماہانہ 200 یونٹ مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ 43 لاکھ خاندانوں کو 500 روپئے میں سلینڈر سربراہ کیا جارہا ہے ۔ 4.54 خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو بینکوں سے مربوط 60487 کروڑ قرض فراہم کئے گئے۔ سیلف ہیلپ گروپس کیلئے اسکول یونیفارمس کی تیاری کے علاوہ پٹرول بنکس چلانے اور آر ٹی سی بسیں آپریٹ کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے ۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ 15 لاکھ سے زائد نئے راشن کارڈس جاری کئے گئے اور عوامی نظام تقسیم سے 3.38 کروڑ افراد کو راشن سربراہ کیا جارہا ہے۔ سماجی تحفظ کے تحت 2.25 لاکھ افراد کو نئے پنشن منظور کئے گئے۔ ریاست میں معمرین ، بیواؤں ، معذورین اور دیگر مستحق افراد کے بشمول جملہ 43 لاکھ افراد کو سوشیل سیکوریٹی پنشن فراہم کیا گیا ہے۔ اندراماں ہاؤزنگ کے پہلے مرحلہ میں 4.50 لاکھ مکانات تعمیر کئے گئے اور استفادہ کنند گان کو پانچ لاکھ روپئے کی سبسیڈی فراہم کی گئی ۔ حیدرآباد کے شہری حدود میں ہمہ منزلہ اندراماں ٹاؤرس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت ایک لاکھ اندراماں ہاؤزنگ یونٹس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ سماجی انصاف کی فراہمی کیلئے حکومت نے جامع سروے منعقد کیا جس میں مختلف طبقات کی سماجی ، معاشی ، تعلیمی ، روزگار اور سیاسی پسمانگی کا جائزہ لیا گیا۔ اسمبلی میں بی سی طبقات کیلئے 42 فیصد تحفظات کی فراہمی سے متعلق بلز کو منظوری دی گئی۔ غیر منظم ورکرس کی بھلائی کیلئے ویلفیر بوثرڈ قائم کیا گیا۔ ہر اسمبلی حلقہ میں ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیاگیا اور 105 اسمبلی حلقوں میں منظوری دی گئی۔ سرکاری اسکولوں میں 3 پرائمری کلاسس متعارف کی گئی ہے۔ پرائمری سے انٹرمیڈیٹ سطح تک 22 لاکھ طلبہ کو ناشتہ ، دودھ اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ ڈائیٹ چارجس میں 40 فیصد اور کاسمیٹک چارجس میں 212 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ میگا ڈی ایس سی کے ذریعہ 10 ہزار ٹیچرس کی بھرتی کی گئی ۔ 11 لاکھ طلبہ کو اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ فراہم کیا جارہا ہے ۔ حکومت نے 1000 دنوں میں 72000 سرکاری جائیدادوں پر تقررات کا دعویٰ کیا۔ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ 456 اور پولیس رکروٹمنٹ بورڈ کے ذریعہ 7437 جائیدادوں پر تقررات کیلئے نوٹیفکیشن جاری کئے گئے۔ 1/k
ریاست کے 65 آئی ٹی آئیز اور 57 پالی ٹیکنکس کو اپ گریڈ کرتے ہوئے اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹر میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ 1/k
عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی عمارت گوشہ محل میں 2700 کروڑ سے تعمیر کی جارہی ہے جس م2000 بستروں کی گنجائش رہے گی۔ گزشتہ ایک ہزار دنوں میں چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے 518186 افراد کو 2526 کروڑ کی مالی امداد فراہم کی گئی۔ غذائی اشیاء میں ملاوٹ کی روک تھام کیلئے سخت کارروائی کا فیصلہ کاے گیا۔ منشیات کے خلاف ایگل سسٹم کے ذریعہ تعلیمی اداروں میں شعور بیداری مہم شروع کی گئی ہے۔ حکومت نے مختلف شعبہ جات میں کارکردگی کی تفصیلات پیش کیں جس میں حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ اور موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ شامل ہیں۔ 1/k