ریونت ریڈی کا موقف مستحکم،اہم سیاسی تبدیلیوں کا امکان

   

بی آر ایس کی شکست سے ارکان اسمبلی کے انحراف کا امکان، کانگریس ہائی کمان بھی چیف منسٹر سے مطمئن
حیدرآباد۔/4 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا کی 17 نشستوں کے نتائج کے بعد امید کی جارہی ہے کہ تلنگانہ میں اہم سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ کانگریس اور بی جے پی کو فی کس 8 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور بی آر ایس کا مکمل صفایا ہوگیا۔ بی آر ایس کی ابتر حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف دو حلقہ جات میں پارٹی دوسرے نمبر پر رہی جبکہ باقی میں تیسرا مقام حاصل ہوا۔ تلنگانہ میں انتخابی مہم کے دوران اور پھر رائے دہی کے بعد سروے اور ایگزٹ پولس میں کانگریس اور بی جے پی میں کانٹے کا مقابلہ بتایا گیا تھا جبکہ بیشتر ایگزٹ پولس میں بی آر ایس کو ایک بھی نشست حاصل نہ ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ سروے رپورٹس اور ایگزٹ پولس تلنگانہ کے بارے میں درست ثابت ہوئیں۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ڈبل ڈیجیٹ نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا تھا لیکن دونوں پارٹیوں کو 8 نشستوں پر اکتفاء کرنا پڑا۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دونوں پارٹیوں نے آپس میں نشستیں تقسیم کرلی ہیں۔ انتخابی نتائج پر ریونت ریڈی حکومت کے استحکام کا انحصار تھا اور نتائج کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی کا موقف مستحکم ہوچکا ہے۔ ایک طرف تلنگانہ میں اہم اپوزیشن بی آر ایس کا لوک سبھا سے صفایا ہوگیا تو دوسری طرف مرکز میں بی جے پی کے کمزور موقف کے سبب حکومت کو بی جے پی سے خطرہ نہیں رہے گا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو کے برسراقتدار آنے سے بھی ریونت ریڈی کا موقف مستحکم ہوا ہے۔ تلگودیشم میں ریونت ریڈی صدر تلگودیشم کے بااعتماد رفیق تھے۔ بعض گوشوں سے اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ انتخابی نتائج میں اگر بی جے پی 10 نشستوں پر کامیاب ہوتی ہے اور مرکز میں بی جے پی کی مضبوط حکومت ہو تو ریونت ریڈی کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے تھے۔ اسی طرح اگر بی آر ایس دو تا چار نشستوں پر کامیاب ہوتی تو پارٹی کے وہ ارکان اسمبلی جو کانگریس میں شمولیت کی تیاری میں تھے وہ اپنا فیصلہ موخر کردیتے تھے۔ اب جبکہ تلنگانہ میں کانگریس اور بی جے پی نے 8 ۔8 نشستوں پر قبضہ کرلیا ہے تو ایسے میں بی آر ایس کے ارکان اسمبلی امکان ہے کہ کانگریس اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے کیونکہ لوک سبھا سے صفایا کے بعد بی آر ایس کا موقف کمزور ہوچکا ہے۔ بی آر ایس کے 5 ارکان اسمبلی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور مزید 20 تا 25 ارکان کے انحراف کا امکان ہے۔ تازہ ترین نتائج کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ انحراف کرنے والے قائدین کانگریس اور بی جے پی میں کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔ کانگریس قائدین کا ماننا ہے کہ لوک سبھا کے نتائج سے پارٹی میں ریونت ریڈی کے مخالفین بھی کمزور پڑ جائیں گے کیونکہ 3 نشستوں سے کانگریس کو 8 تک پہنچانا ریونت ریڈی کا کارنامہ ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ریونت ریڈی اپنے موقف کو مزید مستحکم کرنے کیلئے بی آر ایس سے ارکان اسمبلی کو کانگریس میں شمولیت کی ترغیب دیں گے تاکہ اسمبلی میں بی آر ایس کو اپوزیشن کے موقف سے بھی محروم کیا جائے۔ 2014 اور 2018 میں بی آر ایس نے کانگریس کے ساتھ کچھ یہی سلوک کیا تھا اور ارکان اسمبلی کو شامل کرتے ہوئے کانگریس کو اہم اپوزیشن کے موقف سے بھی محروم کردیا تھا۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ لوک سبھا کے انتخابی نتائج سے کانگریس ہائی کمان کے پاس بھی ریونت ریڈی کے موقف میں بہتری آئی ہے۔ 2019 لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس 9 ، بی جے پی4 اور کانگریس کو 3 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔1