جگہ جگہ عوام سے ملاقات، مانک راؤ ٹھاکرے ، محمد علی شبیر اور دیگر قائدین نے بھی حصہ لیا
حیدرآباد۔6۔ فروری (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کی ہاتھ سے ہاتھ جوڑو مہم کے تحت پد یاترا کا آج آغاز ہوا۔ ملگ ضلع میں سمکا سارالماں جاترا میں شرکت کرتے ہوئے میڈارم سے پد یاترا شروع کی گئی۔ ریونت ریڈی نے مقامی مندر میں خصوصی پوجا کی۔ صبح حیدرآباد سے روانگی کے بعد ملگ پہنچنے تک جگہ جگہ ریونت ریڈی کا استقبال کیا گیا۔ کانگریس کارکنوں نے ریونت ریڈی کی گلپوشی کی اور یاترا کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ یاترا کے آغاز کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام میں ہزاروں کی تعداد میں عوام شریک تھے۔ اے آئی سی سی کے انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے ، اے آئی سی سی سکریٹریز بوس راجو ، ندیم جاوید ، سابق وزیر محمد علی شبیر ، انجن کمار یادو ، بلرام نائک ، ملو روی اور دیگر قائدین یاترا کے آغاز پر موجود تھے۔ کانگریس رکن اسمبلی سیتکا نے یاترا کے انتظامات کئے تھے۔ ریونت ریڈی کی یاترا 22 فروری تک جاری رہے گی جس کے تحت وہ بیشتر اسمبلی حلقہ جات کا احاطہ کریں گے ۔ 2003 ء میں آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی طرح ریونت ریڈی نے پد یاترا کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ کانگریس کو اقتدار حاصل ہو۔ اے آئی سی سی انچارج مانک راؤ ٹھاکرے نے کہا کہ تلنگانہ عوام میں کانگریس کے حق میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا کے ضمن میں پارٹی کے تمام اہم قائدین اپنے اپنے حلقہ جات میں یاترا کا اہتمام کریں گے۔ ملگ ضلع کا یاترا کے آغاز کے لئے انتخاب کیا گیا جبکہ راج شیکھر ریڈی نے چیوڑلہ سے یاترا شروع کی تھی۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ راہول گاندھی پیام کو گھر گھر پہنچانے کے مقصد سے اے آئی سی سی نے ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا کی منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس حکومتوں کی ناکامیوں اور عوام دشمن پالیسیوں سے عوام کو واقف کرانے کیلئے پد یاترا شروع کی گئی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ انہیں وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی پد یاترا کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئے گی۔ تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں مقامی قائدین اور ضلع کانگریس کمیٹیوں کی جانب سے ہاتھ سے ہاتھ جوڑو مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ر