ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس … جھلکیاں

   

l انتخابی نتائج کی ذمہ داری قبول
l نتائج اُگادی پچڑی کی طرح کھٹے اور میٹھے
l بی آر ایس ارکان اسمبلی ضمیر کی آواز پر فیصلہ کریں
l بی جے پی کی تائید سے کویتا کو ضمانت؟
l آندھرا پردیش کی نئی حکومت سے خوشگوار تعلقات
l انڈیا الائینس میں تلگودیشم کا فیصلہ دہلی میں ہوگا
l نائیڈو مدعو کریں تو تقریب حلف برداری میں جاؤں گا
l بی جے پی کوبھگوان رام نے سزا دی

حیدرآباد۔/5جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر سیاسی فیصلہ کریں۔ لوک سبھا الیکشن میں کے سی آر نے ارکان اسمبلی کی طاقت پر بی جے پی سے معاملت کرلی ہے لہذا ارکان اسمبلی کو اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کرنا چاہیئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے اعتراف کیا کہ کانگریس نے زائد نشستوں کی امید کی تھی لیکن نتائج توقع کے مطابق نہیں رہے لہذا حکومت عوام کی خدمت کیلئے مزید وقف ہوجائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ریونت ریڈی نے کہا کہ ملکاجگری لوک سبھا حلقہ میں شکست ضرور ہوئی لیکن اس حلقہ کے تحت کنٹونمنٹ لوک سبھا حلقہ پر کانگریس نے قبضہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اور صدر پردیش کانگریس کسی ایک ضلع یا حلقہ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ ریاستی سطح کے ہوتے ہیں۔ چیف منسٹر اور صدر پردیش کانگریس کی حیثیت سے میں نتائج کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی اور شکست دونوں کیلئے میں خود کو ذمہ دار مانتا ہوں۔ میں ان قائدین میں نہیں جو شکست کا ٹوکرا دوسرے کے سر پر رکھیں۔ انتخابی نتائج کو ’’ اُگادی پچڑی‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ جس طرح پچڑی میں کھٹاس اور مٹھاس دونوں کی آمیزش ہوتی ہے اُسی طرح لوک سبھا کے نتائج کانگریس کیلئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چیف منسٹر نے امکان ظاہر کیا کہ بی جے پی کی مدد کی صورت میں کے سی آر کی دختر کویتا کو شراب اسکام میں ضمانت مل سکتی ہے۔ ایک سوال پر چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر جب تک ہیں سازشیں چلتی رہیں گی لہذا عوام کو چوکس رہنا چاہیئے۔ بی جے پی تلنگانہ میں مہاراشٹرا کی طرح منتخب حکومت کو غیر مستحکم نہیں کرپائے گی۔ آندھرا پردیش کے نتائج پر تبصرہ کرنے کی خواہش پر ریونت ریڈی نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو اور جگن موہن ریڈی دونوں نے عوامی فیصلہ کا استقبال کیا ہے، میں کون ہوتا ہوں جو مخالفت کروں۔ میاں بیوی راضی ہوں تو پھر قاضی کا کیا کام۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں جو بھی حکومت ہوگی ان سے بہتر تعلقات استوار کرتے ہوئے بین ریاستی مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا جن میں پانی اور اثاثہ جات کی تقسیم شامل ہیں۔ ریاست کی بھلائی کیلئے میں کسی سے بھی بات چیت کیلئے تیار ہوں ۔ انڈیا الائینس میں تلگودیشم کی امکانی شمولیت کے بارے میں پوچھے جانے پر ریونت ریڈی نے کہا کہ انڈیا الائینس میں کون رہے گا یا نہیں یہ فیصلہ کرنا میرا کام نہیں ہے۔ میری ذمہ داری ریاست تک محدود ہے جس کی میں تکمیل کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار پہلے کانگریس کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ این ڈی اے کے کئی حلیف پہلے کانگریس کے ساتھ تھے۔ انڈیا الائینس میں شمولیت سے متعلق بات چیت ریاست کی سطح پر نہیں بلکہ مرکز میں کی جاتی ہے جس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر انہیں چندرا بابو نائیڈو کی حلف برداری میں شرکت کیلئے دعوت نامہ ملتا ہے تو وہ ضرور شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو اگر انہیں مدعو کریں تو وہ ضرور تقریب حلف برداری میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے کے وعدہ پر قائم ہے۔ چیف منسٹر نے اُتر پردیش کے فیض آباد حلقہ میں بی جے پی کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں رام مندر تعمیر کی گئی وہاں بی جے پی کو شکست ہوئی جس کا مطلب صاف ہے کہ رام کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش پر بھگوان رام نے سبق سکھایا ہے بی جے پی کو سزا دی ہے۔1