زرعی پیداوار سے عالمی معیشت اور فوڈ سیکوریٹی کا استحکام

   

چین میں 1.1 ٹریلین ڈالر پیداوار، ہندوستان 410 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر
حیدرآباد ۔یکم جولائی (سیاست نیوز) عالمی معیشت پر زرعی پیداوار کا نمایاں اثر دیکھا گیا ہے۔ زرعی پیداوار کے ذریعہ نہ صرف فوڈ سیکوریٹی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے بلکہ لاکھوں افراد کا انحصار اس شعبہ پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں زرعی پیداوار زیادہ ہے ، وہاں دیہی علاقوں میں روزگار کے زائد مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ زرعی پیداوار میں چین دنیا میں 1.1 ٹریلین ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ ہندوستان 410 بلین ڈالر زرعی پیداوار کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ زرعی پیداوار کے معاملہ میں مختلف ممالک کی فصلیں علحدہ ہیں۔ چین میں چاول ، گیہوں اور آلو کی زائد پیداوار ہے جبکہ ہندوستان میں دودھ ، دالیں ، چاول اور گیہوں کی پیداوار سے زائد آمدنی ہوتی ہے۔ امریکہ میں زرعی پیداوار 395 بلین ڈالر درج کی گئی ہے جن میں سویا بین ، بیف، ڈیری اور کارن کی پیداوار شامل ہیں۔ روس ، فرانس ، انڈونیشیا ، میکسیکو اور ترکی میں بھی قابل لحاظ زرعی پیداوار قومی معیشت کے استحکام کی ضامن ہے۔ دیگر ممالک کی پیداوار میں سویا بین ، شوگر کین، کافی ، بیف، ڈیری پراڈکٹس ، بارلی ، پام آئیل ، کھوپرا ، ٹماٹر ، مکئی اور ترکاریاں شامل ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافہ اور عالمی سطح پر فوڈ سپلائی چین کے استحکام کے ذریعہ کئی ممالک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔ ہندوستان میں زیادہ تر ریاستوں میں چاول ، گیہوں، دالیں اور دیگر زرعی پیداوار پر کسانوں کا انحصار ہے۔ گزشتہ سال ملک میں چاول کی ریکارڈ پیداوار ہوئی اور ان میں تلنگانہ سرفہرست رہا۔ مرکز اور ریاستوں کی جانب سے کسانوں کو متبادل فصلوں کی ترغیب دی جارہی ہے۔ 1/k/m/b