طلبہ اور کامیابی کے درمیان موبائل فون بڑی رکاوٹ ، NEET ٹاپرس کی نئے امیدواروں کو ہدایت
حیدرآباد۔ 23؍نومبر۔ ( پریس نوٹ ) ۔ NEET ہو یا کوئی بھی مسابقتی امتحان اگر میرٹ میں کامیاب ہونا ہے تو موبائل فون کو دور رکھا جائے۔ اسے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جائے۔ ان خیالات کا اظہار NEET-2021 کے ٹاپرس نے آئندہ سال کے NEET امیدواروں کو رہنمایانہ ہدایات دیتے ہوئے کیا۔ سائنٹیفک مائنڈس کے زیر اہتمام NEET کے 26ٹاپرس کے اعزاز میں تہنیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مہمان خصوصی خورشید احمد جلیل انصاری چیرمین ویژن ٹرسٹ این آر آئی فورم سعودی عرب، اعزازی مہمان ممتاز ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر ایم اے متین اور فہیم احمد تھے۔ ڈائرکٹر سائنٹیفک مائنڈس جناب سید سعادت نے صدارت کی۔ NEET ٹاپرس اور اگلے سال کے امیدواروں اور ان کے والدین نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ٹاپرس نے NEET میں اپنے تجربات کو بیان کیا ان میں سے بعض ایسے طلبہ تھے جنہوں نے سخت ترین مالی تنگی کے باوجود حالات کا مقابلہ کیا۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ 17-18 گھنٹے پڑھائی ضروری ہے۔ ان کا یہ تجربہ ہے کہ جتنی دیر بھی پڑھائی کی جائے وہ پوری توجہ اور انہماک اور بیرونی خیالات سے بچتے ہوئے کی جائے۔ گھر والوں، رشتہ داروں، دوست احباب کے ساتھ کچھ وقت گزارا جائے۔ مسابقتی امتحانات میں شرکت کرنے والوں سے بھی تبادلہ خیال کیا جائے۔ ایک طالبہ رحمت فاطمہ جو عثمانیہ میڈیکل کالج میں MBBS فائنل میں زیر تعلیم ہے‘ اس نے تعلیم کے لئے اپنی تکالیف کو بیان کیا۔ انہی کی کلاس فیلو اشریتا نے بتایا کہ زندگی اور تعلیم میں توازن بہت زیادہ ضروری ہے۔ ڈاکٹر ایم اے متین نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ چیالنجس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ انہوں نے پاور پوائنٹ کے ذریعہ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ جناب جلیل انصاری نے والدین سے کہا کہ وہ بچوں کو ان کی دلچسپی اور رجحان کے مطابق کورس کے انتخاب کو موقع دیں‘ اور تین ٹاپرس کو فی کس پانچ ہزار روپئے کے انعام کا اعلان کیا۔ جناب فہیم احمد نے طلبہ کو اپنے کالج کے دورِ تعلیم اور عملی زندگی سے متعلق رہنمایانہ ہدایت دی۔ جناب سید سعادت نے مسرت اور طمانیت کا اظہار کیا کہ سائنٹیفک مائنڈس کے امیدوار اب دنیا کے گوشے گوشے میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں۔ NEET ٹاپرس نورا نفیس، عبدالمنان، نوید محمود نے بھی اظہار خیال کیا۔ محترمہ عظمیٰ انصاری ڈائرکٹر ویژن اکیڈیمی اسکول بھی موجود تھیں۔