زی نیوز اینکر روہت کو نوئیڈا پولیس نے گرفتار کیا

   

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے بیان کو غلط انداز میں پیش کرنے والے زی ٹی وی کے اینکر روہت رنجن کی گرفتاری کے دوران دو ریاستوں چھتیس گڑھ اور اترپردیش کی پولیس کے درمیان ٹھن گئی۔اور دونوں ریاستوں کی پولیس نے روہت رنجن کی گرفتاری کے اس کے گھر پہنچ گئے۔بالآخر نوئیڈا پولیس نے روہت رنجن کو گرفتار کرلیا۔چھتیس گڑھ پولیس راہول گاندھی کے ایک بیان کو غلط انداز میں پیش کرنے کے سلسلے میں منگل کی صبح صحافی روہت رنجن کے گھر پہنچی۔ اس کے بع صبح 5 بجے کے بعد اینکر روہت رنجن نے خود ٹویٹ کرکے چھتیس گڑھ پولیس کے گھر پہنچنے کی اطلاع یوپی کے چیف منسٹر اور پولیس کے اہلکاروں کو ٹیگ کرکے دی اور پوچھا کہ کیا یہ قواعد کے مطابق درست ہے کہ لوکل پولیس کو اطلاع دئے بغیر دوسری ریاست کی پولیس انھیں گرفتار کرسکتی ہے تاہم چھتیس گڑھ پولیس کی ٹیم جو عدالتی وارنٹ کے ساتھ غازی آباد پہنچی اور اینکر کو حراست میں لے لیا۔لیکن نوئیڈا پولیس نے اینکر روہت رنجن کے گھر پہنچی اور چھتیس گڑھ پولیس کی تحویل سے اسے چھین لیا۔نیوز اینکر روہت رنجن کو نوئیڈا پولیس نے نوئیڈا کے سیکٹر 20 پولیس اسٹیشن میں درج ایک معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے اٹھایا ہے۔جو تعزیرات ہند کی دفعہ 505 کے تحت آج مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ چھتیس گڑھ پولیس نے دیویندر یادو نامی شخص کی شکایت پر رائے پور کے سول لائنز پولیس اسٹیشن میں روہت رنجن کے خلاف دفعہ 153 (مذہب، نسل، مقام وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، دفعہ 295 (کسی بھی طبقے کے مذہب کی توہین کے ارادے سے عبادت گاہ کو نقصان پہنچانا یا ناپاک کرنا)، سیکشن سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔زی ٹی وی کے اینکر روہت رنجن نے اپنے ایک پروگرام ڈی این اے میں راہول گاندھی کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا تھا ۔
اصل میں راہول گاندھی نے اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) کے کارکنوں کو جنہوں نے ان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی انہیں ‘بچے’ کہا تھا اور کہا تھا کہ انہیں ان سے کوئی غصہ نہیں ہے۔ لیکن روہت رنجن نے زی ٹی وی چینل پر یہ تبصرہ ادے پور کے درزی کنہیا لال کے دو قاتلوں ریاض عطاری اور غوث محمد کے تئیں کانگریس لیڈر کے تبصرے کے طور پر نشر کیا۔ چینل نے غلطی کے لیے معافی مانگی لیکن کانگریس احتجاج کر رہی ہے۔