سابق رکن اسمبلی نریندر ریڈی کی درخواست ہائی کورٹ میں مسترد

   

ضمانت کی درخواست کا جائزہ لینے کوڑنگل کورٹ کو ہدایت

حیدرآباد۔/4ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سابق رکن اسمبلی پی نریندر ریڈی کو اس وقت دھکا لگا جب تلنگانہ ہائی کورٹ نے لگچرلہ واقعہ کے سلسلہ میں ان کے خلاف دائر کردہ مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کو مسترد کردیا۔ کوڑنگل کے سابق رکن اسمبلی نے پولیس کی جانب سے دائر کردہ ایف آئی آر کو کالعدم کرنے کی درخواست داخل کی تھی۔ ہائی کورٹ نے گذشتہ دنوں نریندر ریڈی کے خلاف دائر کئے گئے تین علحدہ ایف آئی آر کو دو کالعدم کرتے ہوئے ایک ہی واقعہ میں تین ایف آئی آر درج کرنے کو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ نریندر ریڈی نے مقدمہ کو کالعدم کرنے کی درخواست کی جسے نامنظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ٹرائیل کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ میرٹ کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست کا جائزہ لیں۔ نریندر ریڈی نے کلکٹر اور دیگر عہدیداروں پر حملہ کے واقعہ میں عدالتی تحویل کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس لکشمن نے آج درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کے دلائل کو سنا۔ ہائی کورٹ نے کوڑنگل کی مقامی عدالت سے کہاکہ وہ نریندر ریڈی کی ضمانت کی درخواست کا جائزہ لیں۔ واضح رہے کہ لگچرلہ میں ضلع کلکٹر و دیگر عہدیداروں کو حملہ کے مقدمہ میں پولیس نے نریندر ریڈی کو A1 کے طور پر شامل کیا ہے اور وہ عدالتی تحویل کے تحت چرلہ پلی جیل میں ہیں۔ عدالت نے 11 ڈسمبر تک عدالتی تحویل میں توسیع کی ہے۔ مقامی پولیس نے نریندر ریڈی کے علاوہ بی آر ایس کے بعض مقامی قائدین کو بھی گرفتار کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں دیا ہے۔ نریندر ریڈی پر الزام ہے کہ انہوں نے عہدیداروں پر حملہ کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ موبائیل ڈیٹا کی مدد سے پولیس نے اس بات کا پتہ چلایا کہ حملہ میں ملوث افراد سے نریندر ریڈی نے فون پر رابطہ کیا تھا۔1