پولیس تحویل کو عدالت نے درست قرار دیا، مزید تین دن تفتیش کا امکان
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ (سیاست نیوز) فون ٹیاپنگ کیس میں گرفتار اسپیشل انٹلیجنس برانچ (SIB) کے سابق ڈی ایس پی پرنیت راؤ کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی۔ پولیس کی تحویل کے خلاف پرنیت راؤ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو عدالت نے مسترد کردیا ۔ نامپلی کورٹ نے مزید تحقیقات کیلئے پرنیت راؤ کو پولیس کی تحویل میں دیا ہے ۔ پرنیت راؤ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تمام حقائق کی بنیاد پر پولیس تحویل میں مزید تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔ اس معاملہ میں فریقین کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے کل اپنا فیصلہ محفوظ کردیا تھا ۔ عدالت نے آج فیصلہ سناتے ہوئے پرنیت راؤ کی درخواست کو مسترد کردیا اور نامپلی کورٹ کی جانب سے تحویل میں دیئے جانے کے فیصلہ کو درست قرار دیا ۔ سابق ڈی ایس پی کے وکلاء کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے پولیس کی تحویل کے بارے میں جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں، ان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات نے منظر عام پر آنے والے امور میڈیا میں لیک کئے جارہے ہیں۔ بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن میں تفتیش کی جارہی ہے جہاں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔ واضح رہے کہ پولیس عہدیداروں کی ٹیم مختلف زاویوں سے پرنیت راؤ سے تفتیش کر رہی ہے ۔ پولیس تحویل کو چار دن مکمل ہوچکے ہیں اور مزید تین دن باقی ہیں۔ واضح رہے کہ فون ٹیاپنگ معاملہ میں تحقیقات کے دوران کئی سنسنی خیز انکشافات منظر عام پر آئے ہیں جن میں اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایت پر سابق حکومت کے بعض وزراء ، ان کے رشتہ دار اور اپوزیشن قائدین کے ٹیلیفون ٹیاپ کئے گئے تھے۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد پرنیت راؤ نے کمپیوٹر سے ڈیٹا کو حذف کردیا تھا۔ 1