ساحلی علاقوں کو کئی ماحولیاتی چیلنجوں کا سامنا : مودی

   

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو بنگلورو میں یوتھ فار پریورتن اور میرٹھ میں کباڑ سے جگاڑ مہم کز ٓکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ساحلی علاقے ماحولیات سے جڑے کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان چیلنجوں کے لیے سنجیدہ اور مستقل کوششوں کی ضرورت ہے ۔ آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ماہانہ ‘من کی بات’ پروگرام کی قسط 93 میں وزیراعظم مودی نے کہا ‘‘انسانی زندگی کی ترقی کا سفر، مسلسل ، پانی سے جڑا ہوا ہے – چاہے وہ سمندر ہو، دریا ہو یا تالاب۔ ہندوستان بھی خوش قسمت ہے کہ ساڑھے سات ہزار کلومیٹر (7500 کلومیٹر) سے زیادہ طویل ساحل کی وجہ سے ہمارا سمندر سے اٹوٹ رشتہ ہے ۔ یہ ساحلی سرحد کئی ریاستوں اور جزیروں سے گزرتی ہے ۔ ہندوستان کی متنوع برادریوں اور متنوع ثقافت کو یہاں پھلتے پھولتے دیکھا جا سکتا ہے ’’۔انہوں نے کہا ‘‘صرف یہی نہیں، ان ساحلی علاقوں کاے پکوانن بہت سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ لیکن ان مزیدار باتوں کے ساتھ ساتھ ایک افسوسناک پہلو بھی ہے ۔ ان ساحلی علاقوں کو کئی ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے ، جب کہ دوسری طرف ہمارے بیچوں پر پھیلی گندگی پریشان کن ہے ۔ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان چیلنجوں کے لیے سنجیدہ اور مستقل کوششیں کریں۔انہوں نے کہا ‘‘یہاں میں ملک کے ساحلی علاقوں کو صاف کرنے کی کوشش ‘سووچھ ساگر – سرکشت ساگر’کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ 5 جولائی کو شروع ہونے والی یہ مہم 17 ستمبر کو وشوکرما جینتی کے دن ختم ہوئی۔
اشاروں کی زبان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ معذور افراد کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو: مودی
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے معذور افراد کے لیے اشاروں کی زبان کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے آج ہم وطنوں پر زور دیا کہ وہ جسمانی طور پر معذور افراد کی مہارتوں اور صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ہندوستانی اشاروں کی زبان کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔یہاں آل انڈیا ریڈیو پر اپنے ماہانہ پروگرام ‘من کی بات’ میں مودی نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ زندگی کی جدوجہد سے ستائے ہوئے شخص کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی ہو سکتی۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہم کچھ ایسے ساتھی بھی دیکھتے ہیں، جو کسی نہ کسی جسمانی چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یا تو سننے سے قاصر ہیں یا بول کر اظہار کرنے سے قاصر ہیں۔