سارے تلنگانہ میں موسلادھار بارش ۔ حیدرآباد بھی جل تھل

,

   

٭ کئی مقامات پر نشیبی علاقوں میں پانی داخل ۔ 6 افراد ہلاک
٭ تمام ذخائر آب لبریز ۔ کئی پراجیکٹس سے پانی کی نکاسی
٭ شہر میں ٹولی چوکی کا سارا علاقہ جھیل میں تبدیل
٭ سرکاری ملازمین کی رخصتیں منسوخ ۔ کلکٹرس چوکس

حیدرآباد ۔ گذشتہ 24 گھنٹوں سے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ شہر حیدرآباد میں ٹولی چوکی ، مہدی پٹنم ، گولکنڈہ کے علاقے جھیل میں تبدیل ہوگئے ۔ ندیم کالونی میں گھٹنوں برابر پانی جمع ہوگیا جہاں عام زندگی مفلوج ہوگئی ۔ ریاست بھر میں بارش سے تمام ذخائر آب لبریز ہوگئے ۔ پراجکٹس کے دروازے کھول کر پانی چھوڑا جارہا ہے ۔ ہر ضلع کے ندیاں اور تالاب لبریز ہونے سے کئی گاؤں کا عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ۔ جملہ چھ افراد بارش سے متعلق حادثات میں ہلاک ہوگئے ۔ شہر و اضلاع میں کئی مقامات پر نشیبی علاقوں کے مکانات میں پانی داخل ہوگیا ۔ آئندہ تین دنوں میں چار اضلاع بشمول حیدرآباد کے ساتھ متحدہ محبوب نگر ، رنگاریڈی ، نلگنڈہ میں بارش ہونے اور 28 ستمبر کو زبردست بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت پر چیف سکریٹری سومیش کمار نے ضلع کلکٹرس کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی ہے ۔ تمام ضلعی عہدیداروں کو ہیڈکوارٹر پر قیام کرتے ہوئے جانی و مالی نقصانات کو بچانے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے پر زور دیتے ہوئے کلکٹرس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملازمین کی رخصت منظور نہ کریں اور جو ملازمین رخصت پر ہیں ان کی رخصت منسوخ کردیں ۔ کلکٹریٹس میں کنٹرول روم قائم کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ کل رات سے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع میں موسلادھار بارش ہورہی ہے ۔ حیدرآباد میں بارش سے کئی مقامات جھیل میں تبدیل ہوگئے ۔ سڑکوں پر پانی جمع ہوجانے سے ٹریفک مسائل پیدا ہوئے ۔ سڑکوں پر درخت گرگئے ۔ جی ایچ ایم سی اسکواڈ اور پولیس کی جانب سے گرے ہوئے جھاڑوں کو ہٹانے و پانی کے نکاسی کیلئے جنگی خطوط پر کام کیا ہے ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار و کمشنر پولیس حیدرآباد انجنی کمار نے عوام سے خواہش کی ہے کہ وہ غیر ضروری گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔ ٹریفک مسائل اور پانی کی نکاسی کیلئے عوام گھروں میں رہ کر سرکاری مشنری سے تعاون کریں ۔ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی مہدی پٹنم ، ٹولی چوکی و گولکنڈہ علاقے جھیل میں تبدیل ہوگئے ۔ ٹولی چوکی رومان ہوٹل کے سامنے سڑک پر پانی جمع ہوگیا ۔ ندیم کالونی پانی میں محصور ہوگئی ۔ جس سے کالونی کے عوام گھروں تک محدود ہوگئے ۔ بعض لوگ گھر کی پہلی منزل یا چھتوں پر پناہ لینے میں مجبور ہوگئے ۔ شہر کی تمام سڑکوں پر ٹریفک مسائل دیکھے گئے ۔ اس طرح اضلاع میں بارش کی وجہ سے عوام کو دشواریوں و پریشانیوں سے گزرنا پڑا ۔ مہاراشٹرا اور کرناٹک میں زبردست بارش سے ناگرجنا ساگر میں پانی تیزی سے جمع ہوگیا ۔ جس سے حکام نے 10 گیٹس کو پانچ فیٹ تک کھول کر پانی کا اخراج کیا ۔ ناگرجنا ساگر کی مکمل سطح آب 590 فیٹ ہے ۔ جس میں 589.30 فیٹ تک پانی پہونچ گیا ۔ سری سیلم پراجکٹ میں بھی پانی کے تیز بہاؤ کو دیکھتے ہوئے تین گیٹ کھول دیئے گئے ۔ وقار آباد کے تانڈور میں کاگنہ ندی خطرے کے نشان کو پہونچ گئی اور سڑکوں پر تیزی سے پانی بہہ رہا ہے ۔ جس سے تانڈور اور محبوب نگر کے درمیان گاڑیوں کی آمد و رفت منقطع ہوگئی ۔وقار آباد ضلع میں موسلادھار بارش کی وجہ سے کوکٹ پلی شیوانگر کے تالاب لبریز ہوگئے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔ متحدہ ضلع محبوب نگر میں بارش سے بھیما پراجکٹ کے 10 گیٹس کھول دیئے گئے۔ پراجکٹ میں 70,000 کیوزکس پانی کا اِن فلو ہے اتنی ہی مقدار میں آؤٹ فلو بھی ہے۔