لکھنؤ: اترپردیش میں کسانوں کی انکم کو بڑھانے کے لئے ریاست کی یوگی حکومت نے اس سال کے آخر تک ریاست کے سبھی بلاک میں کسانوں کی خود کی کمپنی کے طور پر فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (پی ایف او) بنانے کا ہدف طے کیا ہے ۔وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس سمت میں اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک بلاک میں ایک یا اس سے زیادہ ایف پی او تشکیل دئیے جاسکتے ہیں۔ جمعرات کو ریاستی حکومت کے آفیشیل ذرائع نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی حکومت اگلے پانچ سال میں 4000 سے زیادہ ایف پی او کی تشکیل کا ہدف طے کرچکی ہے ۔ایف پی او کے ذریعہ سے چھوٹے اور درمیانی کسانوں کو بچولیوں و دلالوں سے نجات مل سکے گی۔ ملحوظ رہے کہ سال 2019 میں چھوٹے اور درمیانے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کر کے ان کو معاشی اور سماج طور سے باختیار و مستحکم بنانے کے لئے نریندر مودی نے اس اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اس کا آغاز چترکوٹ سے کیا تھا۔یوپی میں چھوٹے اور درمیانے کسانوں کی تعداد سب سے زیادہ(90فیصدی سے زیادہ) ہے ۔ حکومت کا ہدف انہیں درمیانے اور چوٹے کسانوں کی معاشی حالت میں بہتری لانا اولین ترجیح ہے ۔ ایف پی او کی تشکیل کا مرکزی نقطہ بھی کسانوں کے اسے گروپ کو مستفید کرنا ہے ۔یوگی حکومت کا دعوی ہے کہ ایف پی او کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ مثلا ایف پی او کو وقف ایک الگ پورٹل’یو پی ایف پی او شکتی’ کا آغاز کرنے والا یوپی ملک کا پہلا صوبہ ہے ۔ اسی ضمن میں حکومت نے ایف پی او کے لئے محکمہ جاتی منٹر بھی نامزد کئے ہیں۔ ایف پی او کی پیش رفت کا جائزہ اور مسائل کے تصفیہ کے لئے ریاستی منصوبہ بندی اکائیاور ضلع انتظامیہ اکائی سرگرم ہیں۔حکومت نے خصوصی فصلوں کے لئے بھی ایف پی او کی تشکیل کررہی ہے ۔ اس ضمن میں 625 ایف پی او کی تشکیل کا ہدف رکھا گیا ہے ۔ اس ضمن میں بلاکوں کے انتخاب کے ساتھ کام کرنے والے اداروں کو اسے فراہم بھی کردیا گیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ ایف پی او کسانوں کا ایک گروپ ہوتا ہے ۔ یہ زرعی پروڈکشن کے ساتھ زراعت سے وابستہ پیشہ وارانہ سرگرمیاں بھی پیشہ کمپنیوں کی طرح انجام دیتا ہے ۔ا س کے لئے حکومت نے ٹریننگ کا منجمنٹ کررکھا ہے ۔