شراب پر مکمل امتناع فروخت کرنے اور پینے پر 50 ہزار روپئے کا جرمانہ ، پنچایت کا دلیرانہ فیصلہ
سدی پیٹ۔ 4 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع سدی پیٹ کے تگٹہ منڈل کا ایک چھوٹے سے گاؤں پیدا مامن پلی اس وقت پوری ریاست تلنگانہ کیلئے ایک بہترین اور قابل ستائش مثال بن گیا ہے۔ گاؤں میں امن و امان کو برقرار رکھنے، جرائم پر قابو پانے اور خاص طور پر نوجوان نسل کو بے راہ روی اور نشے کی لت سے بچانے کیلئے گاؤں والوں نے ایک سنسنی خیز اور انقلابی فیصلہ کیا ہے۔ گاؤں کے سرپنچ پراوین ریڈی کی قیادت میں منعقدہ ایک خصوصی اجلاس کے دوران پورے گاؤں میں شراب نوشی اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا متفقہ طور پر فیصلہ کرتے وہئے تاریخی قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس فیصلے کو تمام گاؤں والوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ گاؤں کی پنچایت کی جانب سے منظور کردہ اس سخت قرارداد کے مطابق اگر اب گاؤں کی حدود میں کوئی بھی شخص شراب فروخت کرتے ہوئے یا پیتے ہوئے پکڑے گئے تو اس پر 50 ہزار روپئے کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہی نہیں گاؤں کو صدفیصد شراب سے پاک اور مثالی بنانے کیلئے پنچایت نے ایک انوکھا اور اسمارٹ منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ جو بھی شخص گاؤں میں غیرقانونی طور پر شراب فروخت کرنے یا شراب پینے والوں کے بارے میں پنچایت کو اطلاع دیتا ہے تو اسے 1000 روپئے بطور انعام دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ پختہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے کا نام اور تفصیلات مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی تاکہ اس کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ نہ ہوسکے۔ سرپنچ پراوین ریڈی اور پیداماسن پلی گاؤں کے عوام کی اس دلیرانہ اور ترقی پسند اقدام کی ہر طرف سے ستائش ہورہی ہے۔ کیونکہ شراب نوشی کی وجہ سے اکثر دیہی علاقوں میں گھریلو تشدد اور لڑائی جھگڑے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ریاست کے دیگر پنچایتوں میں بھی اس کی تقلید کریں تو نہ صرف دیہی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ خواتین اور بچوں کیلئے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول بھی تیار ہوگا۔2