تلنگانہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ پر ڈاکٹرس کا مشورہ
حیدرآباد۔20 ۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ڈاکٹرس نے شہریوں کو مشوردہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے سردی‘ نزلہ ‘ کھانسی اور زکام کو نظرانداز نہ کریں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ نواحی علاقوں میں درجہ حرارت میں گراوٹ کے سبب سردی میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں کئی وبائی امراض کا شہری اپنے طور پر علاج کر رہے ہیں اور میڈیکل اسٹور سے ادویات خرید کراستعمال کر رہے ہیں جو کہ موجودہ حالات میں انسانی صحت کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ڈاکٹرس کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ماسک کے استعمال اور چوکسی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ شہریوں کو تشویش میں مبتلاء ہوئے بغیر کسی بھی طرح کی علامات کی صورت میں اور وباء کا شکار ہونے سے محفوظ رہنے کیلئے ماسک کا استعمال کرنا چاہئے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ اگر عوام اپنے طور پر ماسک کا استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ 90 فیصد تک وبائی امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔کورونا وائرس ہی نہیں بلکہ دیگر وبائی امراض جو کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ پھیل رہے ہیں ان سے بھی محفوظ رہنے میں ماسک بے انتہاء معاون ثابت ہوتا ہے اسی لئے عوام بالخصوص اسکول جانے والے بچوں کو ماسک کے استعمال کا عادی بنانے کی ضرورت ہے۔ماہر اطباء کا کہناہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے متعلق تحقیق کا عمل جاری ہے اسی لئے تحقیق مکمل ہونے سے قبل کچھ بھی کہنا درست نہیں ہے ۔ محکمہ صحت کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے سلسلہ میں ڈاکٹرس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر عوام صحتمند ماحول چاہتے ہیں تو انہیںاپنے اطراف صاف صفائی کو یقینی بنائیں۔ ڈاکٹرس کے مطابق موسم کی تبدیلی کی صورت میں بچوں اور ضعیف العمر افراد میں سردی ‘ زکام اور نزلہ کی شکایات عام ہوتی ہیں لیکن موجودہ ماحول میں ان شکایات کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس کے بہتر علاج پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ مناسب بروقت علاج نہ کروائے جانے کی صورت میں کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور موسم سرما کے دوران پھیپڑوں اور تنفس سے متعلق مسائل میں بھی اضافہ ہوتا ہے اسی لئے ان امراض کا شکار مریضوں کوخصوصی احتیاط کرنی چاہئے ۔م