نوجوان تعمیر و ترقی کے سرگرمیوں کا حصہ بنیں، سوسائٹی کو شراب اور نشہ سے بچائیں: مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی
حیدرآباد، 30 دسمبر (پریس نوٹ) مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد، باغ عام نے کہا کہ فلسطین میں اب تک بیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ یہ مسلمان اور یہودیوں کی جنگ نہیں، یہ تو ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے۔ اس سب کے باوجود عالم اسلام بے حسی کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام میں کرسمس کو پوری شان و شوکت اور شراب کے نشے میں منایا گیا۔ جبکہ فلسطین میں واقع حضرت عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت اللحم جو عیسائیوں کیلئے سب سے بنیادی اور متبرک مقام ہے، وہاں کرسمس کا اہتمام ہی نہیں کیا گیا۔ بیت اللحم کے پادری منذر اسحق نے کہا کہ ’’جب ہماری سرزمین میں نسل کشی ہو رہی ہو تو کرسمس منانا ناممکن ہے۔ غزہ کے مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے، فلسطین میں قتل عام جاری ہے۔ یہ نسل کشی ہے۔ مغربی دنیا کی منافقت اور نسل پرستی واضح ہوچکی، جو انتہائی خوفناک ہے‘۔ یہ غیرت مند عیسائی ہیں، جن کو مسلمانوں کا درد ہے۔ یورپ کے مالس میں لوگ کرسمس کی شاپنگ کرنے آئے تو وہاں سب کو روک کر اعلان کیا جاتا ہے کہ لوگوں اوپر کی طرف دیکھو تو بھیانک آواز کے ساتھ پمپلیٹس گرتے ہیں۔ اس میں لکھا ہوا ہے کہ کیا ہمیں غزہ کے معصوم انسانوں کے بے رحمانہ قتل پر غیرت نہیں ہے؟مولانا احسن نے کہا کہ غزہ کے مسلمانوں ہر ظلم و ستم کو دنیا بھر کے مسلمان اور عالم اسلام کس طرح دیکھتا ہے؟ یہ الگ بات ہے لیکن آسٹریلیا کی تقریبا 36 خواتین نے غزہ کے معصوم بچوں و خواتین کی ایمانی حرارت اور اسلام پر ثابت قدمی کی وجہ سے اسلام قبول کیا۔ انھوں نے تو اپنا مذہب اور تہذیب چھوڑ دی لیکن کیا ہم مسلمانوں نے گناہ کو چھوڑا؟ کیا ہم نے اپنی زندگی کی روش کو بدلا؟ کیا ہماری مساجد کی صفوں میں اضافہ ہوا؟ کیا وہاں کی ماووں کی سسکیاں سن کر ہمارا دل تڑپا۔مولانا احسن نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں نے کبھی اسلام و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا سودہ نہیں کیا۔ سال 2023 ختم ہورہا ہے، ہم پلٹ کر دیکھیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟ اس سال ہندوستان میں کئی ایسے قوانین کو وضع کیا گیا یا ان میں ترامیم کی گئیں جن کا تعلق مسلمانوں سے بھی ہے۔ مولانا نے کہا کہ آج ہماری محفلوں میں غزہ کے بچوں، خواتین، مرد اور بزرگوں کے تذکرے ختم ہوگئے۔ ان کی قربانیوں کو یاد تک نہیں کیا جارہا ہے۔ اس سال ہمارے محلوں میں کتنے نوجوانوں کا قتل ہوا اور کتنی مسلم لڑکیوں کی عزتیں لٹیں، اس پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ سال بدلنے کا موقع جشن کا نہیں احتساب کا ہوتا ہے۔ یہ موقع اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کا عزم کرنے کا بھی ہے۔ ان گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شراب ہے۔ شہر میں جتنے قتل ہوئے ان میں اکثر قاتل و مقتولوں نے شراب پی رکھی تھی۔ دھڑلے سے مسلم محلوں میں شراب کی دوکانیں کھل رہی ہیں اور ان پر برقعہ پوش خواتین بھی نظر آتی ہیں۔ نشہ نوجوانوں کو کھوکھلا بنا رہا ہے۔ ایسے میں حکومت بھی نشہ کے خاتمہ کیلئے کاربند ہے۔ اس کیلئے کونسلنگ سنٹر اور نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ اپنی سوسائٹی کو شراب اور نشہ سے بچائیے۔ مولانا احسن نے کہا کہ نوجوان ان کاموں، تحریکوں اور کورسیس میں حصہ لیں، جو تعمیر و ترقی کے حامل ہوں۔ ہم اجتماعی طور پر کاروبار کی پہل کرسکتے ہیں، جس سے معاشی حالت درست ہوسکے۔ نوکری سے گھر اور کاروبار سے پوری نسل پلتی ہے۔