سرنگ میں پھنسی نعشوں کا پتہ چلانے میں امدادی ٹیمیں کامیاب

   

آئندہ 2 دن میں نکالا جائے گا، ڈی این اے ٹسٹ سے شناخت کا امکان، اتم کمار ریڈی کا دورہ
حیدرآباد 9 مارچ (سیاست نیوز) سری سیلم لیفٹ بنک کنال کی سرنگ کا چھت منہدم ہونے کے واقعہ کے 16 دن گزرنے کے بعد بچاؤ ٹیموں کو ملبہ میں پھنسی نعشوں کا پتہ چلانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ گزشتہ 16 دنوں سے مرکزی اور ریاستی سطح کی 11 امدادی اور بچاؤ ٹیمیں ملبہ کی صفائی کے ذریعہ 8 ملازمین کا حشر معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہیں جن کے زندہ بچ جانے کے امکانات ختم ہوچکے ہیں۔ سرنگ میں پانی اور کیچڑ کے باعث بچاؤ ٹیموں کو آگے بڑھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ حکام نے ملبہ کی صفائی کے لئے روبوٹس کا استعمال کیا اور بڑی مقدار میں ملبہ کی صفائی کے بعد اسنیفر ڈاگس کی مدد سے انسانی نعشوں کا پتہ چلایا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسنیفر ڈاگس نے ملبہ میں پھنسی ایک نعش کی نشاندہی کی ہے۔ صفائی کے دوران نعش کا ہاتھ دکھائی دیا جس کے بعد بچاؤ ٹیمیں نعش کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہوچکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک مقام پر تقریباً 3 نعشیں پھنسی ہوئی ہیں جبکہ دیگر نعشوں کا ملبہ کی صفائی کے بعد پتہ چل پائے گا۔ حکام کے مطابق چھت کے منہدم ہونے سے 8 ورکرس کی موت واقع ہوگئی اور گزشتہ 16 دنوں میں نعشیں انتہائی مسخ ہوچکی ہیں، اُنھیں نکالنے میں بچاؤ ٹیموں کو دشواریاں پیش آسکتی ہیں۔ ملبہ کی صفائی کا کام مزید دو دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ نعشوں کا پتہ چلانے کے لئے کیرالا سے خصوصی تربیت یافتہ کتوں کو طلب کیا گیا تھا جنھیں امدادی کاموں میں مصروف ٹیموں کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ نعشوں کی منتقلی کے لئے ایمبولنس گاڑیوں کو تیار رکھا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ نعشوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹسٹ کرنا پڑے گا۔ ڈی این اے ٹسٹ کے ذریعہ شناخت کے بعد نعشیں پسماندگان کے حوالے کی جائیں گی۔ ورکرس کے افراد خاندان اچم پیٹ میں بے چینی سے نعشوں کے نکالنے کا انتظار کررہے ہیں۔ وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے ایس ایل بی سی سرنگ کا دورہ کرتے ہوئے بچاؤ کاموں کا جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ آئندہ 2 دنوں میں ٹیموں کو نعشوں تک پہنچنے میں کامیابی مل جائیگی۔ 1