سروجنی نائیڈو کی یوم پیدائش تقریب

   

ٹینک بینڈ پر ان کی نظم ’ حسین ساگر ‘ لگاتے ہوئے منائی گئی
حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : بلبل ہند ، سروجنی نائیڈو کے 143 ویں یوم پیدائش کی یاد منانے کے سلسلہ میں حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (HMDA) کی جانب سے ان کی نظم ’ دی حسین ساگر ‘ کو ٹینک بینڈ روڈ پر آویزاں کیا گیا جہاں وہ مستقل طور پر لگی ہوئی رہے گی ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق اور شہری ترقی کے اسپیشل چیف سکریٹری اروند کمار نے اتوار کو ٹوئیٹ کیا کہ ’ سروجنی نائیڈو کی حیدرآباد سے محبت اور اس شہر سے ان کی دلی وابستگی کی یاد منانے کے لیے ہم نے ٹینک بینڈ پر ان کی نظم ’ حسین ساگر ‘ کو آویزاں کیا ہے ‘ ۔ آرکیٹکٹ ، رائیٹر اور ہیرٹیج میں دلچسپی رکھنے والے آصف علی خاں نے قبل ازیں ٹوئیٹر پر سروجنی نائیڈو کی اس نظم کا حوالہ دیتے ہوئے اروند کمار سے درخواست کی تھی کہ اس نظم کو ایک تختی پر کندہ کروا کر ٹینک بینڈ پر کسی مناسب جگہ لگایا جائے تاکہ لوگ اس جھیل کی اسی انداز میں تعریف کرسکیں جس طرح سروجنی نائیڈو نے اسے بیان کیا تھا ۔ جس پر اروند کمار نے انہیں تیقن دیا تھا کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری قدم اٹھائیں گے ۔ 1912 میں شائع ہوئی ان کی کتاب ’ دی برڈ آف ٹائم ‘ میں سروجنی نائیڈو نے حسین ساگر جھیل کو ان کی روح کا عکس قرار دیا تھا اور ’ دی حسین ساگر ‘ نظم لکھی تھی ۔ وہ تخلیقی تحریک کے لیے حسین ساگر جھیل کے پاس بیٹھا کرتی تھیں اور انہوں نے ان کی بعض بہترین نظموں کو اسی خوبصورت جھیل کے کنارے بیٹھ کر لکھا تھا ۔ وہ کہتی تھیں یہ جھیل بہت خوبصورت ہے اور اپنے میں بڑی کشش رکھتی ہے ۔ ایک صدی بعد لوگ اب بھی ان کی نظموں اور تحریروں سے اپنے تعلق خاطر کا اظہار کرتے ہیں ۔ ایک بلند پایہ شاعرہ ، مجاہد آزادی جنہوں نے کئی رول ادا کئے تھے حیدرآباد میں پیدا ہوئی تھیں اور اسی شہر میں پروان چڑھی تھیں ۔ انگریزی میں کسی شاعر نے کبھی حیدرآباد ، اس کی تاریخ ، تہذیب و تمدن ، رسم و رواج ، اس کے لوگوں اور ان کی شرافت اور عالی ظرفی کو اس طرح صاف اور واضح انداز میں بیان نہیں کیا جس طرح سروجنی نائیڈو نے کیا ۔۔