سال 2023-24 میں سرکاری اسکولس سے 7 لاکھ زیادہ طلبہ نے خانگی اسکولس کا رخ کیا
حیدرآباد 30 جولائی : ( سیاست نیوز ) : سرکاری اسکولس میں طلبہ کے داخلوں میں بتدریج کمی آرہی ہے ۔ اس کے ساتھ خانگی اسکولس میں داخلوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اگر اس طرح کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں سرکاری اسکولس میں داخلوں کی تعداد مزید گھٹنے کا اندیشہ ہے ۔ حکومت نے اسکولی تعلیم سے متعلق ڈیمانڈ پیپر کو اسمبلی میں پیش کیا جس کا جائزہ لیں تو اسکولس میں داخلوں کی وضاحت ہوجاتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق تعلیمی سال 2021-22 میں سرکاری اسکولس میں طلبہ کی تعداد 30,78,189 تھی اور خانگی اسکولس میں 28,67,895 طلبہ زیر تعلیم تھے ۔ اس سے واضح ہوگیا کے خانگی اسکولس سے 2 لاکھ زیادہ طلبہ سرکاری اسکولس میں زیر تعلیم تھے ۔ 2022-23 میںسرکاری اسکولس میں طلبہ کی تعداد گھٹ گئی جب کہ خانگی اسکولس میں اضافہ ہوا ۔ حیرت اس بات کی ہے کہ سرکاری اسکولس میں طلبہ کی تعداد گھٹ کر 28,80,809 لاکھ ہوگئی جب کہ خانگی اسکولس میں طلبہ کی تعداد 30,17,877 لاکھ تک پہونچ گئی ۔ گذشتہ سال کی بہ نسبت اس سال 1.37 لاکھ زیادہ طلبہ نے خانگی اسکولس میں داخلہ لیا ہے ۔ 2023-24 میں سرکاری اسکولس میں طلبہ کے داخلوں کی تعداد گھٹ کر 26,36,630 تک پہونچی جب کہ خانگی اسکولس میں طلبہ کی تعداد 34,05,430 لاکھ تک پہونچ گئی ۔ جاریہ تعلیمی سال سرکاری اسکولس کے مقابلے خانگی اسکولس میں 7 لاکھ سے زیادہ طلبہ نے داخلہ لیا ہے ۔ طلبہ اور اولیائے طلبہ کا سرکاری اسکولس پر اعتماد گھٹ رہا ہے اور خانگی اسکولس پر بڑھ رہا ہے ۔۔ 2