سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو ہندو منتر پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا

   

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ ، تعلیمی اداروں کو بھگوا رنگ میں رنگنے بی جے پی حکومت کی کوشش ناکام
حیدرآباد ۔3 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں تعلیمی نظام کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوششوںکے دوران چندی گڑھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ نے ملک میں تعلیمی نظام کے سیکولر کیریکٹر کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ چندی گڑھ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اسکولی طلبہ کو حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے تعلیمی اداروں نے ہندو مذہب کی دعا کو پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس اے کشور پرساد نے ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے 12 جون کو جاری کردہ سرکولر کے دستوری جواز کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی رٹ پٹیشن پر یہ فیصلہ سنایا۔ بی جے پی زیر قیادت چھتیس گڑھ حکومت نے ایک متنازعہ سرکولر جاری کرتے ہوئے تمام سرکاری اسکولوں میں ویدک منتر بشمول گائتری منتر اور سرسوتی وندنا کے پڑھنے کو لازمی قرار دیا۔ روزانہ اسکول کے آغاز پر طلبہ کو ہندو مذہب کیلئے منتر پڑھائے جائیں گے۔ نئے تعلیمی سال سے یہ لزوم عائد کیا گیا۔ چھتیس گڑھ وقف بورڈ کے سابق صدرنشین عبدالسلام رضوی نے جہدکاروں مہیندر چھابدا اور شفیق احمد کے ساتھ حکومت کے سرکولر کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی۔ چھتیس گڑھ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ انتظامی سطح پر جاری کردہ سرکولر پر عمل آوری کا اسکولوں میں ابھی آغاز نہیں ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے وضاحت قبول کرتے ہوئے جسٹس پرساد نے مقدمہ کی یکسوئی کردی تاہم درخواست گزاروں کو اجازت دی ہے کہ وہ ایسی صورت میں دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوں جب کسی طالب علم کو اسکولوں میں مذہبی منتر پڑھنے پر مجبور کیا جائے ۔ درخواست گزار کے وکیل عامر خاں نے کہا کہ اسکولوں میں اگر ایک مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ سرسوتی وندنا یا دوسرے ہندو مذہب کے منتر پڑھتے ہیں تو اس پر اعتراض نہیں ہے لیکن دیگر مذاہب کے طلبہ کو پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ عدالت نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی طالب علم کو جبراً ایسی مذہبی سرگرمی میں شامل کیا گیا تو متاثرین عدالت سے رجوع ہوسکتے ہیں اور عدالت مناسب کارروائی کرے گی۔ چھتیس گڑھ حکومت نے تمام سرکاری اسکولوں میں قومی ترانے اور قومی گیت کے ساتھ سرسوتی وندنی ، گائتری منتر ، گرو منتر ، دیپ منتر ، دوپہر کے کھانے سے قبل بھوجن منتر اور اسکول کو تعطیل سے قبل شانتی منتر پڑھنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کے موقف کو دیکھتے ہوئے حکومت نے واضح کردیا کہ احکامات پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ سرکولر دستور کے سیکولر نظریہ اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی مذہب کو دوسرے مذہب کے مذہبی منتر پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ درخواست گزاروں نے متنازعہ سرکولر کو کالعدم کرنے کی درخواست کی۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کو اجازت دی ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں دوبارہ عدالت سے رجوع ہوں۔ واضح رہے کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں تمام سرکاری اسکولوں کے علاوہ خانگی اسکولوں میں بھی قومی ترانہ کے ساتھ ساتھ وندے ماترم کو لازمی قرار دیا جارہا ہے اور اترپردیش میں سرسوتی وندنا کے لزوم پر سابق میں بھی تنازعہ پیدا ہوا تھا۔1/k/m/b