صحت یابی کے بعد دوبارہ کورونا کا شکار، عوام سے احتیاطی تدابیرکیلئے ماہرین کی اپیل
حیدرآباد: کورونا مریضوں کے علاج میں سرگرم ڈاکٹرس اور طبی عملے میں کورونا پازیٹیو پائے جانے سے سرکاری دواخانوں میں خوف کا ماحول ہے۔ ای ایس آئی ہاسپٹل کی ایک اسٹاف نرس کو کورونا پازیٹیو پایا گیا جبکہ ایک ماہ قبل ان کا ٹسٹ منفی تھا۔ کئی پیرا میڈیکل اسٹاف میں پہلے مرحلہ میں کورونا کی رپورٹ منفی پائی گئی تھی لیکن دوبارہ ٹسٹ کرنے پر وہ پازیٹیو پائے گئے ۔ طبی عملہ میں وائرس کے پھیلاؤ نے سرکاری دواخانوں کی خدمات کو متاثر کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طبی عملہ میں منفی رپورٹ کے بعد پازیٹیو رپورٹ کا یہ دوسرا واقعہ ہے ۔ ای ایس آئی ہاسپٹل صنعت نگر کے ایک میل اسٹاف نرس کا کورونا ٹسٹ 15 جون کو پازیٹیو پایا گیا تھا ۔ اسے آئسولیشن میں رکھ کر 26 جون کو ڈسچارج کیا گیا۔ کسی علامات کے بغیر اسے کورونا پازیٹیو پایا گیا جبکہ علاج کے بعد رپورٹ منفی آئی ۔ گزشتہ ہفتہ معمولی بخار اور کھانسی پر 20 جولائی کو دوبارہ ٹسٹ کیا گیا جوکہ پازیٹیو رہا۔ گھر کے دیگر افراد بھی کورونا سے متاثر ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ 4 دن کے بعد اہلیہ ، ڈھائی سالہ دختر اور ماں کا کورونا ٹسٹ کیا گیا جو پازیٹیو رہا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک مرتبہ علاج کے بعد صحتمند ہونے والے افراد کا تاثر ہے کہ ان کو دوبارہ کورونا متاثر نہیں کرے گا لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ کئی افراد اور خاص طور پر پیرا میڈیکل اسٹاف میں دوسری مرتبہ کورونا کا ٹسٹ پازیٹیو رہا کیونکہ وہ زیادہ تر وقت کورونا کے مریضوں کی خدمت میں گزار رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ منفی رپورٹ آنے کے بعد کورونا جسم میں 15 دن تک موجود رہتا ہے۔ اس مدت میں اگر احتیاطی تدابیر اور ضروری ادویات کا استعمال کیا گیا تو وائرس مرجائے گا ۔ بصورت دیگر یہ دوبارہ جسم کو متاثر کرسکتا ہے۔ کئی مریض ایسے پائے گئے جن میں کوئی علامات نہیں تھیں لیکن ان کا ٹسٹ پازیٹیو رہا۔ ہوم آئسولیشن کے بعد جب دوبارہ ٹسٹ کیا گیا تو بظاہر منفی دکھائی دیا لیکن احتیاط نہ کرنے پر وہ دوسری مرتبہ کورونا کا شکار ہوئے۔ طبی ماہرین نے کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوںکو مشورہ دیا ہے کہ وہ منفی آنے کے باوجود تقریباً دو ہفتہ تک ضروری ادویات کا استعمال جاری رکھیں۔