حیدرآباد۔ 18 اگست (پریس نوٹ) صدر موؤمنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (تلنگانہ) محمد عبدالعزیزؔ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا جمہوری بنیادوں پر منتخبہ حکومتیں، عوام کو ان کے بنیادی دستوری حقوق ادا کرنے کا فرض، بیشمار سرکاری محکمہ جات کے ذریعہ انجام دیتی ہے۔ اس بات سے عام شہری بہت اچھی طرح واقف ہیں کہ شہر اضلاع اور تعلقہ جات میں بلدی سہولیات کی فراہمی اور عوام کی خدمت، فلاح و بہبود کے لئے حکومت کروڑوں روپے کے فنڈس خرچ کرنے کے لئے سرکاری عہدیداروں کو مختلف مراعات اور اختیارات کے ذریعہ، اختیار دیتی ہے۔ بدقسمتی سے ہر سرکاری محکمہ میں بے ایمان عہدیدار اور ملازمین موجود ہیں جو عوام کو ان کے حقوق دینے کے لئے ان کے حق میں سے اپنا حصہ طلب کرتے ہیں ورنہ عوام کو ان کا حق اس وقت تک نہیں ملتا، جب تک کہ وہ عہدیدار اس ذمہ دار عہدہ پر بیٹھا ہے۔ بدقسمتی سے عوام، نہ چاہتے ہوئے بھی، انتہائی مجبوری کی صورت میں ان بدنیت عہدیداروں کو اپنے حق میں سے ایک مخصوص حصہ، ان عہدیداروں اور ملازمین کو بطور رشوت، دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ سرکاری محکموں میں رشوت خوری کا یہ سلسلہ پچھلی کئی دہائیوں سے بلاخوف جاری ہے، جس سے عوام آج بھی پریشان ہیں۔ ان حقائق کا حکومت کو بھی علم ہے چنانچہ رشوت خوری کے تدارک کے لئے ہی محکمہ انسداد رشوت ستانی قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثبوت اکٹھا کرنے کی خاطر، یہ محکمہ اس وقت تک کسی سرکاری ملازم کے خلاف کارروائی نہیں کرتا جب تک کہ کوئی شکایت کنندہ باضابطہ شکایت نہ کرے۔ جس کے بعد محکمہ حرکت میں آتا ہے، ثبوت اکٹھے کئے جاتے ہیں، رشوت خور عہدیدار کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جاتا ہے اور پھر اسے سزا دی جاتی ہے۔ آخر میں انہوں نے ریاستی حکومت کو یہ تجویز پیش کی کہ محکمہ انسداد رشوت ستانی کو چاہئے کہ وہ عوامی شکایتوں کے علاوہ خود اپنے بل بوتے پر ایسے رشوت خور، بے ایمان عہدیداروں اور ملازمین اور ان کے ایجنٹوں پر خود نظر رکھے، انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ان کے خلاف خود ٹھوس ثبوت اکٹھا کرے۔ ایسا کرنے سے ہم سمجھتے ہیں کہ عمومی طور پر تمام ملازمین پر محکمہ انسداد رشوت ستانی کا خوف ہمیشہ طاری رہے گا بلکہ ہمیں یقین ہے کہ اس تجویز پر عمل آوری سے رشوت خوری، سرکاری خزانے میں خرد برد اور لوٹ کھسوٹ پر روک لگنے کی ابتداء ہوگی۔