ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کی شواہد کے ساتھ حکومت کو رپورٹ پیش ، 28 ڈاکٹرس کے خلاف کارروائی کی سفارش
ہاسپٹلس میں سی سی کیمرے نصب کرنے اور ڈاکٹرس کے سیل فونس میں جی پی ایس سسٹم انسٹال کرنے پر زور
حیدرآباد 20 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ان ڈاکٹرس پر نظر رکھی ہے جو سرکاری ڈاکٹر ہوتے ہوئے کام کے اوقات میں خانگی پریکٹس کررہے ہیں ۔ ریاست کے چند ہاسپٹلس میں ڈیوٹی کے دنوں میں ڈاکٹرس اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں ۔ چند سرکاری ڈاکٹرس کے ہاسپٹلس پہونچنے کے کوئی اوقات مقرر نہیں ہیں وہ کب آتے ہیں اور کب جاتے ہیں اور سرکاری ہاسپٹل میں کتنا وقت گذارتے ہیں وہ روزانہ ہاسپٹل آتے ہیں یا تین چار دن میں ایک مرتبہ آرہے ہیں ڈاکٹرس کہاں مقیم ہیں کیا ان کا اپنا کلینک ہے یا کسی خانگی ہاسپٹلس میں کام کر رہے ہیں اس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور ثبوت کے ساتھ تمام تفصیلات اکٹھا کرلی گئی ہیں ۔ ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈائرکٹر جنرل انجنی کمار نے تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے ۔ جس میں چند ڈاکٹرس کے ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں ۔ ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ کے ساتھ حکومت کو چند تجاویز بھی پیش کی ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ رپورٹ میں کتنے ڈاکٹرس خانگی پریکٹس کررہے ہیں ان کے اپنے کلینکس کتنے ہیں ۔ خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں ان کی کیا خدمات ہیں تمام کا احاطہ کیا گیا ۔ حکومت نے رپورٹ کا سخت نوٹ لیا ہے ۔ سکریٹری صحت مسٹر رضوی نے ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن اور تلنگانہ ویدیا ودھانا پریشد کمشنر کو رپورٹ میں شامل تمام ڈاکٹرس کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی جبکہ ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ نے اپنی رپورٹ میں 28 ڈاکٹرس کے خلاف کارروائی کا مشورہ دیا ۔ ڈاکٹرس کے نام ذاتی کلینک یا خانگی ہاسپٹلس میں کام کرنے کے ناموں کا بھی تذکرہ کیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈائرکٹرآف میڈیکل کونسل کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹرس زیادہ تر اپنے ڈیوٹی اوقات میں ہی خانگی پریکٹس کرتے ہیں قابل ذکر بات یہ ہے کہ حیدرآباد کے دو مشہور ہاسپٹلس کے سپرنٹنڈنٹس کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری ڈاکٹرس ڈیوٹی کے دوران خانگی پریکٹس کرنے سے سرکاری ہاسپٹلس آنے والے غریب مریضوں کو طبی سہولیات نہیں مل رہی ہے ۔ چند ڈاکٹرس کے اپنے کلینکس اور نرسنگ ہومس ہیں جہاں وہ اوقات ڈیوٹی خانگی پریکٹس کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ڈپارٹمنٹ نے سکریٹری محکمہ صحت کو چند تجاویز پیش کی ہیں ۔ ڈاکٹرس کے خلاف کارروائی کے ساتھ تمام سرکاری ہاسپٹلس اور پرائمری ہیلت سنٹرس کے دروازوں پر سی سی کیمرے نصب کرنے اور ساتھ ہی سی سی کیمروں کے ذریعہ ڈاکٹرس پر نگرانی رکھنے کو کہا گیا ہے ۔ سکریٹری محکمہ صحت کے آفس میں کنٹرول روم قائم کیا جائے جس سے ہاسپٹلس کو مربوط کیا جائے ۔ سرکاری ہاسپٹل میں برسر کار ہر ڈاکٹر کے سیل فون میں جی پی ایس ٹراکنگ سسٹم انسٹال کیا جائے ۔ کنٹرول روم کا ڈپٹی یا ایڈیشنل سکریٹری سطح کے عہدہ کو انچارج بنایا جائے ۔ ساتھ ہی کنٹرول روم کے لیے عملہ کا بھی تقرر کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ ن