نیویارک ۔ 2 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی 50 سالہ کرسٹا پائیک کو زہریلا انجکشن دے کر موت کی سزا دینے کی کوشش ناکام ہوگئی اور وہ دو مرتبہ مہلک دوا دیے جانے کے باوجود زندہ رہیں۔پائیک کو 1995 میں اپنی 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔کرسٹا پائیک کو چہارشنبہ کی رات نیش وِل کی ریوربینڈ میکسیمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں مہلک انجکشن دیا گیا۔ ان کے وکلا کے مطابق حکام نے پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیں، تاہم وہ بے ہوش نہیں ہوئیں اور ایک گھنٹے سے زیادہ عرصے تک ان کی سانسیں اور خراٹے سنائی دیتے رہے۔ بعد ازاں انہیں ایمبولینس کے ذریعہ اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں وہ طبی امداد حاصل کر رہی ہیں۔یہ واقعہ اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے کہ مہلک دوا جسم میں داخل کیے جانے کے باوجود پائیک زندہ رہیں۔ ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق ماضی میں بعض سزائے موت پر عملدرآمد رگ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوئے، لیکن پائیک کا معاملہ اس اعتبار سے مختلف ہے کہ دوا دینے کے بعد بھی ان کی موت واقع نہیں ہوئی۔ٹینیسی کے محکمہ اصلاحات نے کہا ہے کہ عملے نے ریاست کے اٹارنی جنرل کے دفتر سے منظور شدہ قانونی پروٹوکول کے تمام مراحل پر عمل کیا۔ محکمہ کے مطابق پائیک کو بعد ازاں طبی مرکز منتقل کردیا گیا۔
تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ دو خوراکیں دیے جانے کے باوجود سزائے موت پر عملدرآمد کیوں مکمل نہ ہوسکا۔واقعہ کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں 2026 کے باقی تمام سزائے موت کے عملدرآمد روک دیے ہیں اور کرسٹا پائیک کے ناکام عملدرآمد کی جامع، آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ریاست میں ایک اور قیدی گیری وین سٹن کو دسمبر میں سزائے موت دی جانی تھی، لیکن اب اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوگا۔