سعودی عرب بڑے پیمانے پر پھانسیدے سکتا ہے : برطانوی ارکان پارلیمنٹ

   

لندن: برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے سکریٹری خارجہ جیمز کلیورلی کو ایک خط لکھا ہے جس میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب کرسمس کی تعطیلات کے پیش نظر ملک میں بڑے پیمانے پر پھانسی کی سزا پر عمل کر سکتا ہے ، کیونکہ اس دوران بین الاقوامی برادری کے مصروفیت ہونے سے وہ تنقید سے بچ سکتا ہے ۔ روزنامہ ‘ٹیلی گراف’ نے مذکورہ خط کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاع دی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ‘‘ہمیں اس بات پر سخت تشویش ہے کہ سعودی عرب تعطیلات کے دوران بڑے پیمانے پر سزائے موت دے سکتا ہے ۔’’ اس خط پر ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے جذبات سے بالاتر ہو کر دستخط کیے گئے ہیں۔ قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب نے اس سے قبل 2016 اور 2020 میں کرسمس اور نئے سال کے دوران ایسا کیا تھا۔ اس دوران مصروف رہنے کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کے لیے فوری ردعمل دینا مشکل ہو جاتا ہے ۔دی ٹیلی گراف نے اطلاع دی ہے کہ سعودی عرب میں اس وقت لگ بھگ 60 افراد کو پھانسی دی جانی ہے ۔
اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے ۔