سعودی میں سینکڑوں برس قدیم پتھروں کا دیہات

,

   

ریاض ۔31 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے باحہ علاقے میں پتھروں سے بنا سینکڑوں برس قدیم تاریخی قریہ (دیہات) مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں اور تارکین وطن کو دعوت نظارہ دے رہا ہے۔ یہ اپنے خوبصورت طرز تعمیر، وسیع و عریض فارموں اور قدرتی مناظر کی بدولت سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ قریہ باحہ شہر سے 20 کلو میٹر دور کنگ فہد عقبہ روڈ کے اس ڈھلوان پر واقع ہے۔ یہ روڈ باحہ علاقہ کو تہامہ عسیر سے جوڑتی ہے۔اس کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر پتھر استعمال کیے گئے ہیں۔ مکانات کی چھتیں جونیپر (العرعر) کے درختوں سے تیار کی گئی ہیں۔ قریے کے اطراف جونیپر کے جنگلات کی وجہ سے مقامی لوگوں کو سہولت حاصل تھی۔ قریے کی بالکنیاں مرو وارڈ پتھروں سے آراستہ ہیں۔ یہ پتھر بڑے قرینے سے مثلث شکل میں لگائے گئے ہیں۔ذی عین قریے میں حملہ آوروں سے تحفظ اور دشمن کے لشکروں کی نگرانی کے لیے دفاعی قلعے بھی موجود ہیں۔ قریے کا موسم گرمی میں گرم اور سردی میں معتدل رہتا ہے۔
یہ قریہ باحہ علاقے کے اس نشیبی علاقے میں بنا ہوا ہے جسے تہامہ العلیا کہا جاتا ہے یہ سطح سمندر سے 1985 میٹر اونچائی پر واقع ہے یہاں موسم گرما میں موسلا دھار بارش ہوتی ہیں۔قریے کا مطلع ابر آلود رہتا ہے۔ موسم سرما میں درمیانے درجے کی بارش ہوتی ہے۔قریے کے ایک شہری یحیی العمری نے کہا کہ یہ قریہ 85 تاریخی مکانات پر مشتمل ہے۔ بعض مکانات 5 منزلہ تک ہیں۔ یہاں کیلے، کھجور اور خوشبو والے پودوں کی کاشت ہوتی ہے۔آم اور امرود کے باغات بھی پائے جاتے ہی۔ یہاں کی دستی مصنوعات اور عوامی کھانے پورے علاقے میں مشہور ہیں۔ یہاں سال بھر میٹھے پانی کے چشمے سے کھیتی باڑی کی جاتی ہے۔ یہاں آبپاشی کا قانون بڑا منفرد اور کئی سو برس پرانا ہے۔کاشتکار آبپاشی اپنا نمبر آنے پر کرتے ہیں جسے اطواف مزارع ذی عین کہا جاتا ہے۔