سلمان سے دوستی پر رندھاوا کے جم پر فائرنگ، بشنوئی گینگ کی دھمکیاں

   

نئی دہلی ، 13 جون (ایجنسیز) گلوکار گرو رندھاوا ایک نئی پریشانی کا شکار ہوگئے، جب دہلی میں واقع ان کے فٹنس جم پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعوؤں نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جہاں مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے رندھاوا کو خبردار کیا ہے۔ دہلی کے علاقے پشم وہار میں موجود گرو رندھاوا کی فٹنس فرنچائز کے جم کو 10 جون کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دو موٹر سائیکل سوار، جنہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، جم کے باہر پہنچے اور متعدد گولیاں چلانے کے بعد فرار ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور سکیورٹی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم فائرنگ نے علاقے میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ واقعے کے کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر بشنوئی گینگ سے جڑے شخص انیل پنڈت کی جانب سے ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ گرو رندھاوا کے جم کو محض وارننگ کے طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ پوسٹ میں الزام لگایا گیا کہ گلوکار رندھاوا، سلمان خان کے قریب ہوتے جا رہے ہیں اور اگر یہ تعلقات برقرار رہے تو آئندہ مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے اور سوشل میڈیا پر دعوؤں دونوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حملے میں ملوث افراد کو جلد قانون کے کٹھہرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سلمان خان اور بشنوئی گینگ کے درمیان کشیدگی کی تاریخ کئی برس پرانی ہے۔ اس تنازعے کی بنیاد 1998ء کے کالے ہرن کے شکار کے مقدمے کو قرار دیا جاتا ہے، جس میں سلمان خان پر راجستھان میں فلم کی شوٹنگ کے دوران دو کالے ہرنوں کے شکار کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بشنوئی برادری کالے ہرن کو مقدس جانور تصور کرتی ہے، جس کے باعث لارنس بشنوئی اور اس کے ساتھی طویل عرصے سے سلمان خان کے خلاف سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور مختلف مواقع پر انہیں دھمکیاں بھی دی جا چکی ہیں۔