ہائیکورٹ کے احکام : شخصی قانونی لڑائی میں سرکاری خزانہ سے منظوری کو چیلنج
حیدرآباد۔5۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے آئی اے ایس عہدیدار سمیتا سبھروال کو ہدایت دی کہ حکومت کی جانب سے انہیں قانونی لڑائی کیلئے منظور 15 لاکھ روپئے واپس کردیں سمیتا سبھروال نے ایک میگزین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے جس میں فیشن شو میں شرکت سے متعلق رپورٹ شائع کی تھی۔ عدالت نے آئی اے ایس عہدیدار کو ہدایت دی کہ 26 اپریل سے اندرون 90 دن رقم واپس کردیں۔ بصورت دیگر حکومت کو اندرون 30 دن رقم وصول کرنے کا اختیار رہے گا۔ جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس ابھینند کمار شاولی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مفاد عامہ کی درخواستوں پر یہ فیصلہ سنایا جن میں حکومت کی جانب سے سمیتا سبھروال کو شخصی ہتک عزت کے معاملہ میں رقم منظور کرنے سے متعلق جی او کو چیلنج کیا گیا۔ جہد کار ودیا ساگر اور دوسروں نے علحدہ درخواستیں داخل کیں جس میں جی او کے تحت 15 لاکھ روپئے کی منظوری پر اعتراض کیا گیا ۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ عوامی رقومات کو شخصی قانونی کارروائی کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ میگزین کی رپورٹ ایک خانگی تقریب سے متعلق ہے اور سرکاری تقریب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ، لہذا آئی اے ایس عہدیدار کو قانونی جدوجہد کیلئے حکومت کی جانب سے 15 لاکھ روپئے منظور کرنا غلط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک خانگی شخص نے شخصی طور پر دوسرے خانگی شخص کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور یہ معاملہ عوام سے متعلق نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ ایسا نہیں کہ حکومت کوئی کارروائی کرے۔ دوسری طرف میگزین نے عہدیدار کے خلاف کوئی ایسے ریمارکس نہیں کئے ہیں جس سے ان کی سرکاری خدمات متاثر ہوتی ہوں۔ لہذا حکومت کی جانب سے منظور کردہ رقم واپس کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ر