ٹاملناڈو اسمبلی میں قائد اپوزیشن ادھیانیدھی اسٹالن کا بیان
چینائی۔12؍مئی ( ایجنسیز)ٹاملناڈو قانون ساز اسمبلی میں قائد اپوزیشن کے طور پر ادھیانیدھی اسٹالن نے ایک بار پھر سناتن دھرم پر بڑا حملہ کیا ہے۔ 12 مئی کو اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے سناتن نظریہ پر سماج کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا اور اسے ختم کرنے کی اپنی اپیل کا اعادہ کیا۔ ایوان میں ان کے بیان سے ایک بار پھر سیاسی تناؤ بڑھنے کی توقع ہے۔اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران، ادھیانیدھی اسٹالن نے کہا کہ سناتن، ایک نظریہ ہے جو لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے واضح طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ غور طلب ہے کہ 2023 میں ادھیانیدھی اسٹالن نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا تھا جس سے ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ انہیں مختلف ہندو تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید اور قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔12 مئی بروز منگل 17 ویں قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے، ادھیانیدھی اسٹالن نے چیپاک حلقہ کے لوگوں سے اظہار تشکر کیا جہاں سے انہوں نے الیکشن جیتاہے۔ انہوں نے اپنی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نو منتخب اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو بھی مبارکباد دی۔اسٹالن نے کہا کہ ڈی ایم کے ایک تعمیری اپوزیشن کے طور پر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا ڈی ایم کے ہمیشہ سے ایک تعمیری قوت رہی ہے۔ اگرچہ ہم ایوان میں ایک دوسرے کے مخالف بیٹھتے ہیں، جب تمل ناڈو کے لوگوں کی فلاح و بہبود کی بات آتی ہے تو ہمیں ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ادھیاندھی اسٹالن نے کہا کہ وہ اور وزیر اعلیٰ وجے ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے لیکن وہ خود کو سیاست میں وجے سے سینئر سمجھتے تھے۔ انہوں نے چیف منسٹر وجے کے ساتھ اپنا سیاسی تجربہ شیئر کرنے کی بھی پیشکش کی۔ چیف منسٹر وجے اسٹالن کی پیشکش پر مسکرائے۔