سنبھل میں درگاہ جنیٹہ شریف بھی تنازعہ کا شکار

   

سنبھل: سنبھل کی مشہور درگاہ جنیٹہ شریف کو لے کر اب انتظامیہ نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ درگاہ وقف اراضی پر نہیں بلکہ سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔ انتظامیہ یہ بھی دعویٰ کر رہی ہے کہ درگاہ میں مشتبہ سرگرمیاں چل رہی ہیں۔سنبھل ضلع کی تحصیل چندوسی کے جنیٹہ میں دادا معظمیہ شاہ کا ایک مشہور مزار ہے۔ لوگ دور دور سے اس درگاہ پر آتے ہیں۔ اسی گاؤں کے محمد جاوید نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے شکایت درج کرائی ہے۔ محمد جاوید کا الزام ہے کہ جنیٹہ میں دادا معظمیہ شاہ کا پرانا مقبرہ ہے۔ یہاں وقف زمین ہے۔ وقف اراضی پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کی اراضی پر 2019 سے کوئی متولی نہیں ہے، وقف بورڈ کی اراضی پر قابض لوگ عرس کے نام پر ہر سال دو سے ڈھائی کروڑ روپے وصول کرتے ہیں۔ تاہم حلف نامہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عرس سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔چندوسی تحصیلدار دھریندر پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ درگاہ کے بارے میں شکایت موصول ہوئی ہے۔ درگاہ کی دیکھ بھال اور دعویٰ کرنے والوں سے بات چیت ہوئی ہے۔ انہیں وقف سے متعلق دستاویزات جمع کرنے کیلئے دفتر بلایا گیا ہے۔
چھان بین کے بعد پتہ چلا کہ اس وقف جائیداد کا ریونیو ریکارڈ میں کہیں ذکر نہیں ہے بلکہ یہ درگاہ کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور کنسولیڈیشن میں بھی درگاہ کے نام پر رجسٹرڈ ہے تاہم دعویداروں کا کہنا ہے کہ یہ وقف جائیداد ہے۔