سندھو اولمپکس کے لئے عزم

   

نئی دہلی ۔ ہندوستانی بیڈمنٹن کھلاڑیوں کے لئے اولمپک کی تیاری کے لئے عالمی ایونٹ سے قبل مسابقتی مقابلے نہ ہونا تشویش کا باعث ہے لیکن پی وی سندھو کافی پرعزم ہیں کیونکہ ان کے کوریائی کوچ پارک ٹائی سانگ نے انہیں ٹریننگ کے دوران ہی ایسے مواقع فراہم کردیئے ہیں جو کہ حقیقی مقابلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ کورونا کے رواں بحران کی وجہ سے بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن (بی ڈبلیو ایف) کو پہلے ہی ہندوستان نے اولمپک کے تین کوالیفائرس کو منسوخ کرنا پڑا جس کی وجہ سے جولائی، اگست میں منعقد شدنی ٹوکیو اولمپکس سے قبل تیاری کا موقع تھا لیکن ہندوستانی کھلاڑیوں کو یہ آخری مواقع بھی دستیاب نہیں ہوئے۔ اس ضمن میں جب سندھو سے سوال کیا گیا کہ اولمپک کی تیاری سے قبل مذکورہ ایونٹس کے منسوخ ہونے کا کیا اثر ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم سوچ رہے تھے کہ اولمپکس سے قبل سنگاپور کا ایونٹ دستیاب ہوگا اور ہم اپنی تیاری کی سمت کا تعین کرسکیں گے لیکن اب جب کہ سنگاپور ایونٹ بھی منسوخ کردیا گیا ہے تو ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مختلف کھلاڑیوں کے خلاف مقابلے کھیلیں گے تاکہ ٹریننگ کے دوران مسابقتی کھیلوں کی مشق کرنے کا بھی موقع مل جائے گا۔ سندھو نے خبررساں ادارے پی ٹی آئی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مختلف کھلاڑیوں کا کھیلنے کا انداز مختلف ہے جیسا کہ ٹائی زو یا رٹ چانو کا اپنا انداز ہے لیکن کوچ پارک ٹائی نے میری تیاری میں بہتر انداز میں رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یقینی طور پر ہم ایک دوسرے کے خلاف چند مہینوں کے بعد کھیل رہے ہیں اور مجھے اس کے لئے تیار ہی ہونا ہوگا۔ سندھو اولمپکس میں ہندوستان کا نمائندگی کرنے والی ٹیم کے ساتھ ٹریننگ نہیں کررہی ہیں بلکہ وہ ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کے مقام گچی باؤلی کے انڈور اسٹیڈیم میں اپنی ٹریننگ کررہی ہیں۔ سچترا اکیڈیمی میں اپنی ٹریننگ انجام دینے والی 25 سالہ سندھو نے بی ڈبلیو ایف کی جانب سے اولمپک سے قبل منعقد شدنی ایونٹس کو منسوخ کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر بی ڈبلیو ایف کا فیصلہ مایوس کن ہے لیکن زندگی کھیل سے زیادہ اہم ہے۔ سندھو نے مزید کہا کہ یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ ساری دنیا رک گئی ہے لیکن کھلاڑی سے قبل ہم ایک انسان بھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹورنمنٹس منعقد ہوتے ہیں تو ہم محفوظ ہیں، یہ نہیں جانتے کیونکہ وائرس کہیں بھی کسی کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ لہذا انتظامیہ نے بھی انسانی جانوں کو اہمیت دیتے ہوئے کئی ایک ایونٹس کو منسوخ کردیا ہے۔ فی الحال کئی ایونٹس منسوخ ہو رہے ہیں اور میں جانتی ہوں کہ کھلاڑیوں کو ان فیصلوں سے مایوسی ہو رہی ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ عوام کے لئے یہ بہتر ہے۔ سندھو نے مزید کہا کہ کسی بھی ایونٹ کے منتظمین کئی زاویوں سے تجزیہ کرنے کے بعد ببل بنا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ سابق عالمی چیمپین سندھو نے کہا کہ منتظمین اور کھلاڑیوں کے لئے کورونا کے پروٹوکول کی پابندی کرتے ہوئے خود کو ذہنی طور پر مضبوط رکھنا اسان نہیں ہوتا اور اولمپکس جیسے بڑے ایونٹ کا انعقاد سخت ترین چیالنج ہے۔ سندھو نے مزید کہا کہ ہر ملک نے کورونا کے خلاف اپنے قواعد نافذ کئے ہیں جیسا کہ تھائی لینڈ میں ہمارا ہر دو تین دن میں ٹسٹ کیا جارہا تھا جبکہ انگلینڈ میں یہ قاعدہ نافذ تھا کہ اگر طیارہ میں کوئی ایک کورونا سے متاثر ہوتا ہے تو تمام افراد کو قواعد کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ اولمپکس میں میں نے سنا ہے کہ ہر دن کھلاڑیوں کا ٹسٹ کیا جائے گا ۔ ان تمام حالات کے باوجود سندھو کو امید ہے کہ اولمپکس میں کھلاڑیوں کو آسان ماحول نہیں ملے گا۔ یاد رہے اس وقت ریاست تلنگانہ میں بھی لاک ڈاؤن نافذ ہے اور عام زندگی متاثر ہوئی ہے جس سے کھلاڑیوں کی ٹریننگ پر بھی اثر پڑا ہے۔ تاہم صبح 6 تا 10 بجے پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے لوگ اپنی مصروفیات کو انجام دے رہے ہیں جس میں کھلاڑی اپنی ٹریننگ کو جاری رکھ رہے ہیں۔