میرٹھ؍نئی دہلی : یوپی کے میرٹھ ضلع کے سردھنہ اسمبلی حلقہ سے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم ہمیشہ اپنے بیانات کو لے کر تنازعہ کا شکار رہتے ہیں۔اسی تناظر میں ایک بار پھر ممبر اسمبلی سنگیت سوم نے متنازعہ طریقہ کار سے مساجد کے متعلق متنازعہ بیان دے ڈالا۔میرٹھ میں منگل کے روز پریس کانفرنس کے دوران ممبراسمبلی سنگیت سوم نے کہا کہ ’ریاست میں جہاں بھی مندر منہدم کرکے مسجد تعمیر کی گئی ہے ، بی جے پی وہاں مندر دوبارہ تعمیر کر ے گی‘۔ ممبراسمبلی سنگیت سوم نے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا اور انہیں ’موسمی ہندو ‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اپنی حکومت میں سادھوؤں پر لاٹھی چارج کرائی تھی ، وہ اب ہری دوار جاکرسادھوؤں سے معافی مانگ رہے ہیں۔ واضح ہو کہ صوبہ میں حکومت کے ساڑھے چار سال مکمل ہونے پر تمام 403 اسمبلی حلقہ میں ارکان اسمبلی نے اپنی حکومت کی کامیابیوں گنوائیں۔ میرٹھ کی سردھنہ سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم نے بھی 150 صفحے کے رپورٹ کارڈ کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے اپنی حکومت کی کامیابی گنوائی۔ اس دوران متنازعہ بیان کے علاوہ تمام کامیابیوں کو گنتے ہوئے اکھلیش یادو پر شدید حملہ کیا۔