سورت کے ہیروں کی چمک مدھم

   

بڑے پیمانے پر تالا بندیاں اور خودکشیاں اہم وجہ
٭ سورت :ایک سابق ہیرے پالش کرنے والے پواسیا نے شہر کے موٹاوراچا علاقہ میں چائے کی دوکان کھول لی لیکن ہ سالانہ8000 تا 10,000 روپئے نہیں کما سکا جو ہیروں کی پالش کرتے ہوئے کماتا تھا۔ پواسیا نے کہا کہ تعمیراتی مقامات پراس کے صارفین مزدور ہیں۔ وہ ان 20 ہزار ہیروں کارکنوں میں سے ایک ہے جن کی نوکری انحطاط کی وجہ سے تخفیف میں ختم ہوگئی ہے۔ سورت ڈائمنڈ ورکرس اسوسی ایشن کے 25 لاکھ ہیرے پالش کرنے والے ارکان ہیں جو پورے گجرات میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 66 ہزار برخاست کردیئے گئے ہیں۔ کئی خارجی اور داخلی عناصر کی وجہ سے 1.53 لاکھ روپئے مالیتی سورت کی ہیروں کی صنعت زوال پذیر ہوگئی ہے۔ سورت میں ہیروں کے کارخانہ کا مالک پرتریک گڈیجانے کہا کہ پیداوار کی سطحوں میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے اور وہ انحطاط کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔ تاہم ایک اور مالک لال جی پٹیل نے اتفاق کیا کہ اس صنعت پر زبردست منفی اثر مرتب ہوا ہے۔ سورت ڈائمنڈ اسوسی ایشن میں کہا کہ اس کے ہیرا پالش کرنے والے کارکن گذشتہ 6 ماہ سے اپنا روزگار حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ستمبر اور اکٹوبر 2018ء کے درمیان 10 ہیرے کے کارکنوں نے سورت میں خودکشی کرلی اور گذشتہ چند مہینوں میں مزید 5 افراد کی خودکشی کے واقعات پیش آئے۔ تاہم سورت ڈائمنڈ اسوسی ایشن نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کی خودکشی کی وجہ بیروزگاری یا مالی بوجھ ظاہر نہیں کی ہے جو درحقیقت ان واقعات کی وجہ ہے۔ پولیس کی خبروں کے بموجب خودکشیاں گھریلو پریشانیوں کا نتیجہ ہیں۔ کسی بھی خودکشی کی خبر کو بیروزگاری کی وجہ سے یا بیکاری کا نتیجہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ گھروں میں رقم کی عدم موجودگی کے نتیجہ میں بھی ایسی پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔