عصر حاضر میںسوشیل میڈیا کی اہمیت اور افادیت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ان میڈیا پلیٹ فارمس پر عوامی شعور بیداری اور رائے عامہ کے اظہار کو کافی تقویت ملی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں جہاں سماج میں مثبت تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشیل میڈیا کے کچھ مضمرات بھی ہیں۔ یہ سب کچھ استعمال کرنے والوں پر منحصر ہے ۔ دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ سوشیل میڈیا کو اہمیت دی جارہی ہے اور اس کی مسلمہ حیثیت کو بھی تسلیم کیا جانے لگا ہے ۔ سوشیل میڈیا کے تعلق سے یہ تاثر تھا کہ اس پر حکومتوں کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کھل کر اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ حکومتوں سے سوال کئے جاتے ہیں۔ سوشیل میڈیا پر ٹرینڈنگ کے نتیجہ میں حکومتوں پر دباو میں اضـافہ ہوتا ہے ۔ حکومتوں کی غلطیوں اور خامیوں کو ان پرا جاگر کیا جاتا ہے ۔ حقائق کی پردہ پوشی سوشیل میڈیا کے دور میں ممکن نہیں رہی ہے ۔ لوگ کسی تحفظ کے بغیر اپنی رائے کا یہاں اظہار کرتے ہیں۔ اس سے سماج کی حقیقی صورتحال کی عکاسی ہونے لگتی ہے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں حکومت کی جانب سے سوشیل میڈیا پر بھی قابو کرنے اور اسے کنٹرول میں رکھنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ کسی نہ کسی بہانے اور طریقے سے سوشیل میڈیا پر لگام کسنے کی سازشیں ہوتی رہی ہیں اور اب حالیہ وقتوں میں ان کوششوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ ہر کچھ دن بعد مرکزی حکومت کی جانب سے نت نئے قوانین بناتے ہوئے سوشیل میڈیا پر شکنجہ کسنے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ نئے قوانین بناتے ہوئے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس کو ان کی پابندی کیلئے مجبور کیا جاتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ سوشیل میڈیا کو بھی کچھ قوانین کا پابند ہونا چاہئے تاہم قوانین کے نام پر سوشیل میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کا کوئی بھی جواز نہیں ہوسکتا ۔ سوشیل میڈیا کی جو اہمیت اور افادیت ہوگئی ہے آج اس سے کوئی نہیں کرسکتا اور اس سے سماج کے حقیقی مسائل اور صورتحال کو پیش کیا جانے لگا ہے ۔ حکومت اس کو مخالفانہ سرگرمیوں کا نام دینے لگی ہے جبکہ یہ آئینہ دکھانے کی کوشش ہے اور اس پر پابندیاں عائد کرنا مناسب نہیں ہوسکتا ۔
ہندوستان میں تو صورتحال زیادہ ہی ابتر کہی جاسکتی ہے ۔ یہاں سوشیل میڈیا پر منافرت پھیلانے اور ایک مخصوص طبقہ کے خلاف زہر افشانی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے ان کی مدافعت کی جاتی ہے ۔ ان کو قانون سے بچانے کے نت نئے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کہیں کوئی شکایت کی جاتی ہے تو سیاسی اور سرکاری اثر و رسوخ کے ذریعہ اس کو دبا دیا جاتا ہے ۔ دوسری جانب سوشیل میڈیا پر اگر حکومت کی کسی خامی یا نا اہلی کو اجاگر کیا جاتا ہے ‘ سماج میں پائے جانے والے مسائل کو پیش کیا جاتا ہے ‘ حکومت سے سوال کیا جاتا ہے اور اس کے وعدے یاد دلائے جاتے ہیں تو ان کا احترام کرنے کی بجائے ان کے خلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں۔ انہیں قوم مخالف قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اور انہیں جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے ۔ نفرت پھیلانے والوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہوتی ہے ۔ حکومت سے سوال کرنے والوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔ ہندوستان میں اب یہ عام بات ہوتی جا رہی ہے ۔ جو لوگ حکومت کی انتقامی کارروائی سے خوفزدہ ہوئے بغیر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیںاور عوام میں شعور بیدار کر رہے ہیں یا انہیں ان کے حقوق کا احساس کروایا جا رہا ہے تو یہ لوگ حکومت کی آنکھوں میں چبھنے لگے ہیں۔ کئی گوشوں کو متحرک کرتے ہوئے ایسا افراد کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے ۔ ان میں خوف پیدا کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو روکا جاتا ہے ۔
فیس بک ہو یا واٹس ایپ ہو یا پھر ٹوئیٹر ہو یا انسٹا گرام ہو کئی ایسے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس ہیں جن پر عوام کھل کر اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت ایسا لگتا ہے کہ عوام کو سوال کرنے کی آزادی سے استفادہ کا موقع بھی نہیں دینا چاہتی ۔ اسی لئے نت نئے قوانین بناتے ہوئے ان پلیٹ فارمس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ساتھ ہی مختلف سنگین دفعات کو ایسے قوانین میں شامل کرتے ہوئے سوشیل میڈیاصارفین میں خوف پیدا کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ جمہوریت میں عوام کو سوال کرنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا کامل حق حاصل ہے اس کے باجود حکومت عوام کی آواز کودبانے کوشاں ہے ۔ حکومت کو اپنے رویہ میں تبدیلی لاتے ہوئے سوشیل میڈیا کی دستور وقانون کے دائرہ میں آزادی کو برقرار رکھنا چاہئے ۔
